جناب زاہد علی خان کی صحافتی زندگی کے ساٹھ (60) سال

,

   

ایڈیٹر سیاست کی سرپرستی میں اخبار اقلیتوں کی آواز اور تحریک میں تبدیل
دنیا بھر میں ’سیاست‘ کی خصوصی پہچان،بارگاہ رب العزت میں سجدۂ شکر

حیدرآباد۔ 14 ۔ اگست (سیاست نیوز) چہرہ پر ہمیشہ شاہانہ و دانشورانہ مسکراہٹ، ایثار و خلوص، محبت و مروت اور ہمدردی کے جھلکتے تاثرات ، طبیعت میں سادگی عاجزی و اِنکساری، ہمیشہ ضرورت مندوں کی دامے درمے سخنے مدد کیلئے تیار رہنا، ملت مظلومہ کی ہر آہ پر تڑپ جانا، بڑوں کی عزت چھوٹوں سے پیار ، ملازمین کے ساتھ مشفقانہ برتاؤ یہ ایسے اوصاف ہیں جنہیں اللہ رب العزت نے ایڈیٹر اِن چیف سیاست جناب زاہد علی خاں کو عطا کی ہیں۔ اللہ عزوجل جب کسی پر رحم کرتے ہیں تو اسے وہ دماغ عطا کرتے ہیں جو ہمیشہ ملت کی ترقی و خوشحالی، قومی و عالمی سطح پر اس کی اہمیت کی سوچ و فکر کرتا ہے، ان کے منصوبہ بناتا ہے، اللہ عزوجل اپنے کسی بندہ پر رحم کرنا چاہتے ہیں تو اس کے سینے میں ایسا دل عطا کرتے ہیں جو ملت کیلئے تڑپتا ہے، ملت کیلئے دھڑکتا ہے چنانچہ ہم ببانگ دہل یہ کہہ سکتے ہیں کہ جناب زاہد علی خاں کو اللہ عزوجل نے ملت کی ترقی و خوشحالی کی فکر کرنے والا ذہن اور ان کیلئے تڑپنے والا قلب عطا کیا ہے۔ ان کے بارے میں یہ بھی بلاشک و شبہ و بلاجھجک کہا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کو ، اُن کی جاہلانہ روش کو اپنی زاہدانہ طبیعت کے ذریعہ ایسے نظرانداز کردیتے ، ایسے معاف کردیتے ہیں کہ وہ بھی اپنی نجی محفلوں میں یہ کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ خاندانی لوگوں کا ظرف ایساہی ہوتا ہے۔ بہرحال ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں کے بارے میں قرطاسِ ابیض پر الفاظ کی شکل میں ہم صرف اپنے ہی نہیں بلکہ ملت کے جذبات و احساسات کو بھی پیش کرنے کی چھوٹی سی کوشش کررہے ہیں۔ جس طرح بانی سیاست عابد علی خاں مرحوم کو ’’پولیس ایکشن‘‘ کے بعد لٹے پٹے تباہ حال مسلمانوں کی حالت ِ زار نے اخبار سیاست کی اشاعت شروع کرنے پر راغب کیا۔ اُن کے فرزند دلبند جناب زاہد علی خاں بھی اپنے والد بزرگوار کی وراثت کو ان کے ویژن اور مشن کو آگے بڑھانے میں مصروف ہیں۔ جناب زاہد علی خاں کو یقینا جناب عابد علی خاں کا تراشہ ہوا ہیرا کہا جاسکتا ہے۔ ہم جناب زاہد علی خاں کی شخصیت کے بارے میں یہ سب اس لئے بتا رہے ہیں کہ ایک طرف جہاں باغ صحافت میں جناب عابد علی خاں اور جگر صاحب کا لگایا ہوا پودا (روزنامہ سیاست) اپنی عمر کے 75 سال مکمل کرچکا ہے تو دوسری طرف روزنامہ سیاست میں جناب زاہد علی خاں کے 60 سال مکمل ہوگئے ہیں۔ 1964ء میں گریجویشن کی تکمیل کے ساتھ ہی وہ سیاست سے جڑ گئے اور آج جبکہ روزنامہ سیاست اپنی عمر کے 75 سال مکمل کررہا ہے۔ جناب زاہد علی خاں سیاست سے اپنی وابستگی کی ڈائمنڈ جوبلی منا رہے ہیں۔ وہ اور سیاست فیملی اس بات کیلئے بارگاہ رب العزت میں سجدہ شکر بجا لاتے ہیں کہ اللہ نے انہیں سیاست میں سلور جوبلی، گولڈن جوبلی اور ڈائمنڈ جوبلی منانے کا موقع فراہم کیا اور اعزاز عطا کیا۔ صحافت میں 60 سال بے شک ایک سنگ میل ہے اور ان 60 برسوں کے دوران ہمیشہ ان کا ہاتھ اوپر ہی رہا یعنی دینے والا رہا ہے، لینے والا نہیں رہا، جس کیلئے بھی وہ ہمیشہ اللہ عز و جل کا شکر بجالاتے ہیں۔ واضح رہے کہ 22 نومبر 1992ء کو اپنے والد محترم جناب عابد علی خاں کی رحلت کے بعد جناب زاہد علی خاں نے ایڈیٹر سیاست کی ذمہ داری سنبھالی اور اللہ کے فضل و کرم اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ میں وہ 32 برسوں سے بحیثیت ایڈیٹر روزنامہ سیاست کو نہ صرف عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کیا بلکہ اپنے والد مرحوم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے اسے کمزوروں بالخصوص مظلوم مسلمانوں کی آواز میں تبدیل کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ چند سال قبل مسلم پرسنل لا بورڈ کے موجودہ صدر ممتاز عالم دین حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے سیاست کے بارے میں کچھ یوں کہا تھا : ’’سیاست ایک اخبار نہیں بلکہ تحریک ہے‘‘۔ جناب عابد علی خاں اور جناب محبوب حسین جگر مرحوم نے جناب زاہد علی خاں کی غیرمعمولی صحافتی تربیت کی، انہیں صحافتی اقدار کی اہمیت و افادیت بتائی اور یہ بھی بتایا کہ کس طرح حق گوئی و بے باکی اشاعت کے روز اول سے ہی سیاست کی پہچان، شناخت اور اس کی خوبی رہی ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ اللہ کے محبوب بندے صرف اور صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ اور اس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی رضا کیلئے اپنی قیمتی جائیدادیں وقف کردیتے ہیں اور اللہ کا کرم ہے کہ عابد علی خاں صاحب اور جگر صاحب کا تراشہ ہوا ہیرا یعنی جناب زاہد علی خاں نے خود کو ملت کیلئے وقف کردیا ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ روزنامہ سیاست اپنی آمدنی کا 25% حصہ ملت کے سماجی کاموں پر خرچ کرتا ہے جس میں مستحق و ضرورت مند نونہالان ملت کیلئے اسکالرشپس سے لے کر نامعلوم مسلم نعشوں کی باوقار و بااحترام انداز میں تجہیز و تکفین بھی شامل ہے۔ جناب زاہد علی خاں نے عصری تقاضوں سے نہ صرف سیاست کو بلکہ اردو صحافت کو بھی ہم آہنگ کیا۔ گزشتہ 32 برسوں سے روزنامہ سیاست کلر میں چھپ رہا ہے۔ آپ کو بتادیں کہ انگریزی کے قدیم و موقر روزنامہ ’’دی ہندو‘‘ کو کلر میں آنے کیلئے 125 سال کا عرصہ لگ گیا تھالیکن جناب زاہد علی خاں نے اپنی ادارت میں سیاست کو نہ صرف کلر میں شائع کروانے کے عمل کو تیزی سے آگے بڑھایا بلکہ اخبار کو قارئین کیلئے پرکشش، دیدۂ زیب اور معلومات کا خزینہ بنانے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ حال ہی میں ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا کے سابق سربراہ ممتاز صحافی، مصنف اور سماجی جہدکار آکار پٹیل نے سیاست کی بے شمار فلاحی اسکیموں پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک دور میں ٹاٹا کے اتنے پراجیکٹس، کمپنیاں اور پراڈکٹس تھے کہ وہ کہتے تھے کہ ہم اسٹیل بھی فروخت کرتے ہیں، اسی طرح سیاست کی اس قدر زیادہ سماجی خدمات ہیں، جس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ سیاست اخبار بھی نکالتا ہے۔ جناب زاہد علی خاں کے بارے میں مرحوم ابراہیم بن عبداللہ مسقطی نے ’’حیدرآباد جو کل تھا‘‘ پروگرام کے ضمن میں انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا ’’نواب کے پاس جو بھی آتا ہے، خالی ہاتھ نہیں جاتا‘‘ ۔تیستا ستیلواد کا کہنا ہے کہ جہاں کمزور و اقلیتوں پر ظلم ہوتا ہے سیاست ان کی مدد کیلئے پہنچ جاتا ہے۔ جناب زاہد علی خاں نے اپنے والد محترم کی رحلت کے بعد اخبار کی ادارت سنبھالنے کے ساتھ ساتھ عابد علی خاں ایجوکیشنل ٹرسٹ کے ذریعہ نونہالان ملت کی تعلیمی ترقی کو یقینی بنانے کیلئے طلبہ کیلئے اسکالرشپس کی فراہمی کا آغاز کیا اور تاحال لاکھوں طلباء و طالبات نے ان اسکالرشپس سے استفادہ کیا۔ جس خلوص نیت کے ساتھ وہ دوسروں کی مدد کرتے ہیں، اسی کا ثمر ہے کہ الحمدللہ سیاست دن بہ دن ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔جیسا کہ ہم نے آپ کو بتایا کہ جناب زاہد علی خاں کے سینے میں اللہ نے ملت کیلئے تڑپنے اور دھڑکنے والا دل عطا کیا ہے، جس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ ملک کے طول و عرض میں کہیں بھی فسادات ہوں یا آفات سماوی وہ متاثرین کی مدد کیلئے اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ اللہ عزوجل نے ایڈیٹر سیاست کی زبان میں وہ تاثر دیا ہے کہ جب وہ متاثرین کی مدد کی اپیل کرتے ہیں ، طلبہ کی مدد کیلئے آواز اٹھاتے ہیں تو عوام فوری مدد کیلئے آگے بڑھتے ہیں۔ چنانچہ گجرات ریلیف فنڈ میں عوام نے 3 کروڑ 41 لاکھ روپئے جمع کرائے، اس فنڈ کے ذریعہ گجرات میں 1100 مکانات کی تعمیر عمل میں لاتے ہوئے بے گھر متاثرین کو آباد کیا گیا۔ جس طرح جناب عابد علی خاں اور مرحوم جگر صاحب نے اردو کے فروغ کیلئے تاحیات کوشش کی۔ جناب زاہد علی خاں نے بھی اردو کو زندہ و تابندہ رکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جس کا نتیجہ یہ نکلاکہ اب تک سیاست کے شروع کردہ اردو دانی کلاسیس سے 13 لاکھ سے زائد لوگوں نے استفادہ کرکے امتحانات لکھے۔ جناب زاہد علی خاں نے قومی یکجہتی کونسل کے رکن کی حیثیت سے بھی نمایاں خدمات انجام دیں۔ شادیوں کو آسان بنانے اور ملت کو فضول خرچی سے بچانے کی خاطر انہوں نے ’’ایک ڈش، ایک میٹھا‘‘ تحریک کا آغاز کیا۔ ’’دوبہ دو‘‘ جیسے پروگرام کے ذریعہ دختران ملت کی شادیوں کی راہ ہموار کی۔ انہوں نے اپنے جیب خاصہ کی رقم سے سلویٰ فاطمہ کو تلنگانہ کی پہلی مسلم کمرشیل پائلٹ بنایا۔ فی الوقت ایک اور نوجوان کو جو کسی مسجد کے امام کے فرزند ہیں، اُنہیں بھی پائلٹ بنانے میں مدد کررہے ہیں۔ جس طرح جناب زاہد علی خاں کو عابد علی خاں صاحب اور جگر صاحب کی تربیت حاصل رہی، اُسی طرح زاہد علی خاں صاحب اپنے نور ِنظر عامر علی خاں صاحب کی تربیت و سرپرستی میں مصروف ہیں۔ اپنے دادا اور والد کے نقش قدم پر چل کر عامر علی خاں صاحب بھی اُردو کے فروغ اور ملت کی ترقی کیلئے بے شمار فلاحی اسکیمات چلا رہے ہیں۔ اُمید ہے کہ اُن کے فرزند محمد انتخاب علی خاں بھی میدان صحافت میں اپنے اجداد کی وراثت کو آگے بڑھائیں گے۔