حیدرآباد 15 نومبر ( سیاست نیوز )تلنگانہ میں اسمبلی انتخابات کی اہمیت صرف ریاست میں اقتدار حاصل کرنے تک محدود نہیں رہے گی بلکہ اس کے اثرات آئندہ پارلیمانی انتخابات پر بھی مرتب ہونگے ۔ اس حقیقت کو پیش نظر رکھتے ہوئے سیاسی جماعتیں ہر گوشے کی تائید حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور بی جے پی پس پردہ ایک بساط بچھاتے ہوئے اپنے عزائم کی تکمیل کر رہی ہے ۔ کرناٹک اسمبلی انتخابات میں ایچ ڈی دیوے گوڑا اور ایچ ڈی کمارا سوامی کی جنتادل سکیولر کو عوام نے یکسر مسترد کرتے ہوئے کانگریس کو اقتدار بخشا ۔ جنتادل سکیولر نے اسمبلی انتخابات کی شکست کے بعد اپنے حقیقی عزائم اور چہرے کو بے نقاب کردیا اور اس نے نریندر مودی کی قیادت میں این ڈی اے میں شمولیت اختیار کرلی اور بی جے پی کے ساتھ آئندہ پارلیمانی انتخابات میں مفاہمت کرنے کا اعلان کردیا ۔ اسی بی آر ایس اور کے سی آر کی تائید ریاست میں صدر مجلس اسد الدین اویسی بھی کر رہے ہیں۔ بی جے پی کی بی ٹیم ہونے جیسے الزامات کامجلس کو سامنا ہے ۔ اس کی پرواہ کئے بغیر اسد الدین اویسی نے جب تک کے سی آر زندہ ہیں بی آر ایس کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔ عوام میں یہ تاثر پیدا ہونے لگا ہے کہ آیا اسد الدین اویسی تلنگانہ کی جے ڈی ایس تو نہیں بن رہے ہیں ؟ ۔ کہیں وہ بالواسطہ طور پر ریاست میں عدم استحکام کی سیاسی صورتحال پیدا کرنے کی وجہ تو نہیں بن رہے ہیں جس سے راست بی جے پی کو فائدہ مل سکتا ہے ۔جنتادل ایس نے اسمبلی انتخابات میں سکیولر لفظ کی مدد لیتے ہوئے اقلیتی برادریوں کے ووٹ حاصل کرنے کی پوری کوشش کی تھی ۔
اس کو یقین تھا کہ وہاں معلق اسمبلی تشکیل پائے گی اور اپنی نشستوں کے ساتھ جنتادل ایس بی جے پی کی مدد سے حکومت قائم کرلے گی یا بی جے پی حکومت کی تائید کرکے خود اقتدار میں حصہ داری پائے گی ۔ووٹرس اور خاص طور پر اقلیتی ووٹرس میں یہ رائے بننے لگی ہے کہ جس طرح فرضی سکیولر جماعت کو کرناٹک کے عوام نے شکست سے دوچار کیا ہے اسی طرح تلنگانہ میں بھی بی جے پی کی راہ ہموار کرنے والوں کو کامیاب ہونے کا موقع نہیں دیا جائیگا ۔