نئی دہلی۔14؍جولائی ( ایجنسیز )ملک میں امتحانی نظام میں اصلاحات، پرچہ لیک کے واقعات پر سخت کارروائی اور مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے مطالبے کو لے کر دہلی کے جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شدت آ گئی ہے۔ احتجاج کرنے والی تنظیم کاکروچ جنتا پارٹی نے پیر20 جولائی کو پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس کے پہلے دن پارلیمنٹ تک مارچ کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم کے مطابق جنتر منتر پر جاری دھرنا منگل کو 25ویں دن میں داخل ہو گیا جبکہ معروف سماجی کارکن سونم وانگچک کی غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال 17ویں روز بھی جاری رہی۔سی جے پی کے بانی ابھجیت دیپکے نے کہا کہ 20 جولائی کا مارچ کسی ایک تنظیم کا پروگرام نہیں ہوگا بلکہ اس میں ملک بھر سے طلبہ، نوجوان، اساتذہ، والدین اور تعلیمی نظام میں شفافیت کے حامی افراد شرکت کریں گے۔ ان کے مطابق اس مارچ کا مقصد پارلیمنٹ اور حکومت تک طلبہ کی آواز پہنچانا اور امتحانی نظام میں جامع اصلاحات کا مطالبہ کرنا ہے۔ پارلیمنٹ مارچ کی تیاریوں کے تحت تنظیم نے 7011670115 ہیلپ لائن نمبر جاری کیا ہے جہاں دلچسپی رکھنے والے افراد مس کال دے کر اپنی شرکت درج کرا سکتے ہیں۔دیپکے نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد یہ جاننا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں سے کتنے لوگ احتجاج میں شامل ہونے کے لیے دہلی آ رہے ہیں۔
احتجاج کرنے والوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں مختلف سرکاری امتحانات میں بار بار پرچہ لیک کے واقعات نے لاکھوں نوجوانوں کا مستقبل غیر یقینی بنا دیا ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ امتحانی نظام کو شفاف بنانے، ذمہ داروں کو سخت سزا دینے اور طلبا کے مستقبل کے تحفظ کیلئے فوری اصلاحات کی جائیں۔