جنوبی ہند سے 45 لوک سبھا حلقوں پر کامیابی کانگریس ہائی کمان کا نشانہ

   

پرینکا گاندھی کو انتخابی مہم کے ساتھ پارٹی قائدین کے اختلافات کو دور کرنے کی ذمہ داری کا امکان
حیدرآباد : /26 ڈسمبر (سیاست نیوز) کانگریس پارٹی ہائی کمان نے آئندہ لوک سبھا انتخابات میں جنوبی ہند سے 45 لوک سبھا حلقوں سے کامیابی حاصل کرنے کی حکمت عملی تیار کی ہے جس میں تلنگانہ سے کم از کم 10 ، کیرالا میں ماضی کی طرح 15 ، ٹاملناڈو میں 8 ، کرناٹک میں گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں صرف ایک حلقہ پر کامیابی حاصل ہوئی تھی ۔ اس مرتبہ کم از کم 15 لوک سبھا حلقوں میں کامیابی حاصل کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے ۔ کانگریس امید کررہی ہے کہ ٹاملناڈو میں ماضی کی طرح ڈی ایم کے کانگریس کو 10 نشستیں مختص کرے گی ۔ اس مرتبہ 8 حلقوں پر کانگریس پارٹی کامیابی حاصل کرے گی ۔ جنوبی ہند کی ان ریاستوں کیلئے کل ہند کانگریس پارٹی کے ہر ایک جنرل سکریٹری کو انچارج نامزد کرتے ہوئے انہیں پارٹی کی کامیابی کی ذمہ داری سونپنے کی تیاری کررہی ہے ۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے صدر ملکارجن کھرگے نے لوک سبھا کی تیاریوں کا آغاز کردیا ہے ۔ تلنگانہ میں زیادہ سے زیادہ لوک سبھا حلقوں پر کامیابی کی ذمہ داری چیف منسٹر ریونت ریڈی کے بشمول اہم وزراء کو سونپنے کا جائزہ لیاجارہا ہے ۔ کرناٹک کی ذمہ داری چیف منسٹر سدارامیا اور ڈپٹی چیف منسٹر ڈی کے شیوکمار ، کیرالا کی ذمہ داری مقامی قائدین سدھاکرن ستیشن کو سونپنے کا تقریباً فیصلہ ہوگیا ہے ۔ کیرالا کے سینئر قائد رمیش چنتلا کو ریاست کے کانگریس امور میں مداخلت سے روکنے انہیں مہاراشٹرا کانگریس امور کا انچارج نامزد کیا گیا ہے ۔ اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی انتخابی مہم چلانے والے راہول گاندھی ، پرینکا گاندھی کے ساتھ سچن پائیلٹ کو جنوبی ہند کے ساتھ ملک بھر میں انتخابی مہم چلانے کی ذمہ داری سونپنے کا جائزہ لیا جارہا ہے ۔ کانگریس کی عظمت رفتہ کو بحال کرنے اس مرتبہ ہائی کمان نے پرینکا گاندھی کو کسی ریاست کا انچارج نامزد نہیں کیا جبکہ سچن پائیلٹ کو چھتیس گڑھ جیسی چھوٹی ریاست کی ذمہ داری دی گئی ہے ۔ قومی سطح پر انتخابی مہم چلانے اور ملک کی مختلف ریاستوں میں پارٹی قائدین کے نظریاتی اختلافات کو دور کرنے کی ذمہ داری پرینکا گاندھی کو سونپنے کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے ۔ 2