جنوبی ہند میں غذائی اجناس کے زمرہ میں گیہوں کو اولین ترجیح

   

اترپردیش میں 35.65 ملین ٹن سالانہ پیداوار، مدھیہ پردیش ، پنجاب اور ہریانہ بھی بہتر پیداوار کے مراکز
حیدرآباد ۔30 ۔ جولائی (سیاست نیوز) ہندوستان میں غذائی اجناس کے معاملہ میں دھان کے بعد گیہوں کو دوسرا مقام حاصل ہے۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں غذائی اجناس کے استعمال کی روایات علحدہ ہیں اور شمالی ہند کی ریاستوں میں چاول سے زیادہ گیہوں کا استعمال ہوتا ہے۔ مرکزی حکومت کی فوڈ سیکوریٹی اسکیم میں چاول کے علاوہ گیہوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ گیہوں کی پیداوار کے اعتبار سے اترپردیش ملک میں سرفہرست ہے جہاں ہر سال 35.65 ملین ٹن گیہوں کی پیداوار ریکارڈ کی جاتی ہے۔ مدھیہ پردیش میں سالانہ گیہوں کی پیداوار 24.51 ملین ٹن درج کی گئی اور پنجاب 17.99 ملین ٹن کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ ہریانہ میں 13 ملین ٹن ، راجستھان 12 ملین ٹن ، 6 ملین ٹن ، گجرات 3.50 ملین ٹن، مہاراشٹرا 2.29 ملین ٹن ، اتراکھنڈ ایک ملین ٹن اور ہما چل پردیش میں 0.70 ملین ٹن گیہوں کی پیداوار ریکارڈ کی گئی۔ ہندوستان میں گھریلو ضرورتوں کی تکمیل کے علاوہ عوامی نظام تقسیم کے تحت گیہوں کی پیداوار کو نمایاں اہمیت حاصل ہے ۔ حالیہ برسوں میں مانسون کی ناکامی اور موسمی حالات کی تبدیلی کے پیش نظر حکومتوں میں ہنگامی طور پر زرعی منصوبہ تیار کیا ہے جس کے تحت کسانوں کو متبادل فصلوں کی ترغیب دی جارہی ہے تاکہ وہ موسمی تبدیلی کے نتیجہ میں نقصانات سے بچ سکیں۔ مرکزی حکومت نے شمالی ہند کی ریاستوں میں غذائی اجلاس میں گیہوں کی پیداوار کی حوصلہ افزائی کی ہے جبکہ جنوبی ریاستوں میں دھان کی پیداوار کو فوقیت حاصل ہے۔ جاریہ سال تلنگانہ میں دھان کی ریکارڈ پیداوار ہوئی اور اس نے پیداوار میں ملک کی دیگر ریاستوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ 1/k/m/b