جنگلات کا تحفظ اور درختوں کی کٹائی روکنے کا مطالبہ

   

کے بی آر پارک کے قریب چہل قدمی کرنے والوں اور تنظیموں کا احتجاج
حیدرآباد۔9۔ مئی ۔ (سیاست نیوز) کے بی آر پارک میں موجود درختوں کو کاٹنے کی کوششوں کے خلاف چہل قدمی کرنے والوں اور غیر سرکاری تنظیموں کے کارکنوں کے علاوہ سماجی جہدکاروں نے کے بی آر پارک کے روبرو انسانی زنجیر بناتے ہوئے کاموں کو فوری طور پر روکنے اور جنگلاتی علاقہ کو محفوظ رکھنے کے اقدامات کا مطالبہ کیا۔ ریاستی حکومت کی جانب سے جوبلی ہلز سڑک پر ٹریفک مسائل کو دور کرنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے تحت کے بی آر پارک کے درختوں کو کاٹنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے خلاف شروع کئے گئے اس احتجاج میں شامل افراد نے الزام عائد کیا کہ ریاستی حکومت شہر میں جنگلاتی علاقوں کو تباہ کرتے ہوئے حیدرآباد کو دوسرے دہلی میں تبدیل کررہی ہے۔ احتجاجی مظاہرہ میں شامل افراد نے شہر حیدرآباد کو ماحولیاتی آلودگی اور فضائی آلودگی سے پاک بنائے رکھنے کے لئے شہر حیدرآباد میں شجرکاری کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ شہر حیدرآباد میں محض ایک ہی محفوظ جنگلاتی علاقہ ہے اور حکومت کی جانب سے اسے بھی نشانہ بنایا جارہا ہے جو کہ شہر میں ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کا سبب بنے گا۔ گذشتہ دنوں ریاستی اس مصروف ترین سڑک پر رات دیر گئے کی جانے والی کاروائی کے دوران درختوں کو ہونے والے نقصانات کی نشاندہی کرتے ہوئے ان درختوں کے تحفظ کے اقدامات کا مطالبہ کیا جا رہاہے۔ درختوں کو ہٹاتے ہوئے کسی بھی طرح کے ترقیاتی کاموں کی احتجاج میں شامل افراد نے شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ماحولیات کو تباہ کرتے ہوئے کئے جانے والے ترقیاتی کام شہروں کی تعمیر یا ترقی کا موجب نہیں بنتے بلکہ درختوں اور جنگلاتی علاقوں کو ختم کی جانے والی ترقیات تباہی کا سبب بنتی ہیں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ماحولیاتی آلودگی میں اضافہ کا سبب بننے والے اس پراجکٹ کو سماجی جہدکاروں نے غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت کے ماحولیات سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے درختوں کو کاٹا جانے لگا ہے جبکہ ریاستی حکومتوں اور بلدیا ت کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہری علاقوں میں شجرکاری کو فروغ دیتے ہوئے جنگلاتی علاقہ میں اضافہ کے اقدامات کرے لیکن اس کے برعکس ترقیاتی کاموں کے نام پر جنگلاتی علاقہ کو ختم کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے ۔H/3