پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ سے اسوسی ایشن کی نمائندگی
حیدرآباد۔12۔ جنوری (سیاست نیوز) محکمہ جنگلات کے عہدیداروںکی جانب سے اسلحہ اور گولہ بارود کی فراہمی سے متعلق مطالبہ پر ریاستی حکومت نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ محکمہ جنگلات کے عہدیداروں اور ملازمین کے تحفظ کیلئے اسلحہ کی فراہمی اور نئے فاریسٹ اسٹیشنوں کے قیام کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ حال ہی میں کتہ گوڑم ضلع میں فاریسٹ رینج آفیسر سی ایچ سرینواس راؤ پر قبائلیوں نے حملہ کرتے ہوئے ہلاک کردیا تھا۔ اس واقعہ کے بعد سے محکمہ جنگلات کے عہدیدار ڈیوٹی کی انجام دہی کے دوران اپنے تحفظ کے بارے میں فکرمند ہیں۔ اسٹیٹ فاریسٹ سرویس آفیسرس اسوسی ایشن نے پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ آر ایم دوبریال کو یادداشت پیشکرتے ہوئے ڈیویژن کی سطح پر فاریسٹ اسٹیشن کے قیام کی تجویز پیش کی۔ فاریسٹ عہدیداروں اور ملازمین پر حالیہ عرصہ میں حملہ کے واقعات کا حوالہ دیا گیا اور فاریسٹ رینج آفیسرس اور زائد رتبہ کے عہدیداروں کو پستول فراہم کرنے کی مانگ کی گئی جبکہ دیگر ملازمین کو حفاظت خود اختیاری کے تحت رائفل دیئے جائیں۔ ہر فاریسٹ اسٹیشن میں فاریسٹ رینج آفیسرس کے علاوہ 18 رکنی عملہ کا تقرر کیا جائے۔ آصف آباد ، عادل آباد ، کھمم اور کریم نگر میں ترجیحی بنیادوں پر فاریسٹ اسٹیشنوں کے قیام کی مانگ کی گئی۔ جنگلاتی علاقوں میں پٹرولنگ کیلئے مزید گاڑیوں کے الاٹمنٹ کا مطالبہ کیا گیا۔ پرنسپل چیف کنزرویٹر آف فاریسٹ آر ایم دوبریال نے بتایا کہ اسوسی ایشن کے مطالبات پر پولیس عہدیداروں کے سا تھ اجلاس منعقد کیا گیا۔ ریاستی حکومت کو تجاویز پیش کردی گئی ہے اور حکومت کے فیصلہ کا انتظار ہے۔ ر