بڑے گھرانوں کے اوباش نوجوانوں کے ملوث ہونے کا انکشاف
حیدرآباد۔ یکم جون (سیاست نیوز) آج کل نوجوان نسل بالخصوص مسلم نوجوان شراب کی لعنت کا شکار ہو رہے ہیں۔ ہفتہ کی شام شہر کے پاش علاقہ جوبلی ہلز میں ایک عجیب و غریب واقعہ پیش آیا۔ جہاں شراب کے نشہ میں چور چند مسلم نوجوانوں نے اپنے دیگر غیر مسلم ساتھیوں کے ساتھ ایک کمسن غیر مسلم لڑکی کا مبینہ طور پر اغوا کیا۔ اس غیر انسانی حرکت میں ملوث مسلم نوجوانوں کا تعلق سیاسی گھرانوں سے بتایا جاتا ہے، جو ایوانوں، جلسوں جلوس اور سیاسی محاذوں پر ایک دوسرے کی کٹر مخالفت میں رہتے ہیں جبکہ ان کے بچے مل کر شرمسار حرکتوں میں ملوث ہوتے ہیں۔ اس 17 سالہ لڑکی کو پارٹی میں شررکت کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا اور اس کے ساتھ ناقابل بیان حرکت کی گئی۔ لڑکی کو جوبلی ہلز کے ایک مشہور پب سے دعوت کے بعد قیمتی گاڑیوں میں نامعلوم مقام منتقل کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق لڑکی کو اس کے ساتھیوں یادی اور سورج نے مدعو کیا تھا۔ متاثرہ لڑکی کے والد کی شکایت پر پولیس جوبلی ہلز نے کیس درج کرلیا ہے۔ پولیس بھی پہلے اثر و رسوخ کے آگے کارروائی سے مجبور ہوگئی تھی، لیکن ایک اعلیٰ عہدیدار کی مداخلت اور معاملہ کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے پولیس نے کیس درج کرلیا۔ اس سلسلہ میں جوبلی ہلز انسپکٹر راج شیکھر ریڈی نے بتایا کہ کرائم نمبر 295/2022 دفعات 354, 323 آئی پی سی اور سکشن qr/w10 پاسکو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ پولیس نے خاطیوں کے ناموں کا افشاء نہیں کیا بلکہ بتایا کہ لڑکی اس کے والد کے مطابق اپنا بیان دینے کے موقف میں نہیں ہے۔ گزشتہ رات ہوئے حادثہ کے بعد لڑکی خوف کا شکار ہوگئی اور اس پر عملاً سکتہ طاری ہوگیا ہے۔ پولیس نے بتایا کہ لڑکی کیگلے پر نشانات پائے گئے ہیں۔ آج جوبلی ہلز پولیس نے لڑکی کو بھروسہ سنٹر سے رجوع کیا جہاں اس کا بیان لیا جائے گا۔ پولیس نے بتایا کہ روڈ نمبر 36 پر واقعہ پب میں سورج اور ہادی نے دعوت کا اہتمام کیا تھا۔ لڑکی کو شام تقریباً 5:30 بجے چند افراد اپنی مرسیڈیز اور انوا کار میں نامعلوم مقام لے گئے۔ جوبلی ہلز پولیس اس سارے واقعہ کی تحقیقات کررہی ہے اور ان افراد کی تلاش جاری ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق اس کیس میں ملوث نوجوانوںکو بچانے کے لئے سیاسی اثر و رسوخ کو استعمال کیا گیا اور معاملہ فہمی کرلی گئی تھی۔ تاہم معاملہ کی اطلاع عام ہونے اور کسی وجہ سے پولیس جوبلی ہلز مقدمہ درج کرنے پر مجبور ہوگئی۔ تاہم اب اصل خاطیوں کی نشاندہی اور ان کی گرفتاری پولیس کے لئے اہم مسئلہ بن گیا ہے۔ امکان ہے کہ لڑکی کے بیان کے بعد مزید کارروائی اور گرفتاریاں عمل میں آئیں گی۔ ع