حیدرآباد3 جون (سیاست نیوز) جوبلی ہلز کم عمر لڑکی کی اجتماعی عصمت ریزی کیس میں پولیس نے 5 ملزمین کی شناخت کرکے ایک کو گرفتار کرلیا ۔ جبکہ کم عمر ملزم کے مکان پر نظر رکھی جارہی ہے۔ ڈی سی پی ویسٹ زون جوئل ڈیوس نے کہاکہ امنیشیا اینڈ انسومنیا پب میں پارٹی کے بعد لڑکی کی پانچ نوجوان بشمول تین کمسن لڑکوں نے انووا کار میں عصمت ریزی کی ۔ اُنھوں نے کہاکہ عصمت ریزی معاملہ میں وزیرداخلہ جناب محمود علی کے پوتے کا رول نہیں ہے اور اُنھیں بدنام کرنے بعض افراد سوشل میڈیا پر غلط اور بے بنیاد خبریں پھیلارہے ہیں۔ ڈی سی پی نے کہاکہ متاثرہ لڑکی سے پھر بیان لیا جائے گا اور مزید ناموں کے انکشاف کے بعد کارروائی ہوگی۔ ڈی سی پی نے بتایا کہ کیس میں پانچ ملزمین ہیں جن میں دو بالغ اور تین نابالغ لڑکے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ یہ واقعہ 28 مئی کو پیش آیا لیکن لڑکی کے والد 31 مئی کو پولیس سے رجوع ہونے پر مقدمہ درج کیا گیا۔ اُنھوں نے کہاکہ لڑکی صدمہ میں تھی اس لئے بروقت شکایت درج کرانے سے قاصر تھی لیکن پولیس نے دفعہ 354 اور پوکسو ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرکے تکنیکی شواہد کی بنیاد پر تحقیقات کا آغاز کیا۔ اُنھوں نے کہاکہ لڑکی کو بھروسہ سنٹر منتقل کیا گیا جہاں خاتون عملہ نے لڑکی کی کونسلنگ کی۔ دوران لڑکی نے 5 ملزمین کے ملوث ہونے کا انکشاف کیا جس میں ایک کی نشاندہی سعدالدین ملک ساکن کپلا گوڑہ کی حیثیت سے کی گئی اور اُس کا ایک دوست عمیر خان شامل ہے۔ ڈی سی پی نے کہاکہ شہر کی مشہور شخصیت کا بیٹا بھی ملوث ہے اور چونکہ وہ کم عمر ہے اِس لئے اُسے گرفتار نہیں کیا گیا اور قوانین کے مطابق اُسے دن میں حراست میں لے کر بچوں کی عدالت میں پیش کیا جائیگا۔ جرم میں مستعملگاڑیوں کو ضبط کیا جاچکا ہے۔ ایک ایم ایل اے کا بیٹا ملوث ہونے کی اطلاعات ہیں لیکن ٹھوس شواہد دستیاب نہیں ہوئے ۔ اِس کیس کی تحقیقات اے سی پی کے رتبہ کے عہدیدار سے کروائی جارہی ہیں اور ملزمین کے کال ڈیٹا ‘ٹاور لوکیشن اور سی سی ٹی وی فٹیج کے شواہد اکٹھا کئے گئے ۔ ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ شہر کے ایک رکن اسمبلی کا بیٹا اِس پارٹی میں شامل تھا لیکن پولیس کو یہ اطلاع موصول ہوئی ہے کہ لڑکی سے دست درازی کے ساتھ ہی یہ لڑکا وہاں سے فرار ہوگیا۔