جوبلی ہلز نابالغ لڑکی کی عصمت ریزی کے تصاویر و ویڈیوز کا افشا ء

   

پولیس کی وفاداری پر سوالیہ نشان، حکومت کیلئے پریشانی ممکن، بی جے پی رکن اسمبلی کے انکشافات پر کھلبلی

حیدرآباد ۔ 4 جون (سیاست نیوز) جوبلی ہلز میں پیش آئے نابالغ لڑکی کی عصمت ریزی کے معاملہ میں ایک حیرت انگیز انکشاف منظرعام پر آیا جو نہ صرف ٹی آر ایس پارٹی بلکہ پولیس کے لئے بھی ایک بڑا مسئلہ بن گیا ہے۔ انتہائی رازدارانہ انداز میں جاری تحقیقات اور خاطیوں کی گرفتاری کے درمیان چند تصاویر کا افشاء کیا گیا جو پولیس کی دیانتداری اور وردی وفاداری پر سوالیہ نشان بن گیا ہے؟۔ رکن اسمبلی بی جے پی مسٹر راگھونند راؤ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران باضابطہ طور پر چند تصاویر کو جاری کیا اور ان سے متعلق استفسار کیا۔ کار میں لڑکی اور لڑکے کی جانب سے جاری نازیبا حرکت اور کار میں سوار دیگر لڑکوں کی جانب سے کی جارہی فلمبندی کی ویڈیو اور تصاویر کو رکن اسمبلی نے منظرعام پر لایا اور ایک بڑا سوال کھڑا کردیا۔ آیا سوال یہ پیدا ہوتا ہیکہ آخر یہ تصاویر رکن اسمبلی تک کس طرح پہنچی۔ اس تعلق سے ویسٹ زون پولیس کی اسپیشل برانچ انٹلیجنس اور کیس کی تحقیقات میں شامل عہدیداروں نے عجلت میں اجلاس طلب کیا اور معاملہ کی تحقیقات جاری ہیں۔ پولیس کے اعلیٰ عہدیدار بار بار سپریم کورٹ کے احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے خاطیوں اور متاثرہ لڑکی کی شناخت کو راز میں رکھے ہوئے ہیں حالانکہ خاطیوں اور متاثرہ کے والدین سرپرستوں کی شناخت کے علاوہ ان کے عہدوں اور رہائشی پتہ کو بھی راز میں رکھا گیا۔ باوجود اس کے رکن اسمبلی تک تصاویر کا پہنچنا پولیس پر سوالیہ نشان کا سبب بن گیا ہے۔ یہ تصاویر متاثرہ یا پھر خاطیوں کے ذریعہ رکن اسمبلی تک پہنچنا چاہئے یا پھر پولیس کے ذریعہ خاطی افراد کے ذریعہ پہنچنا ناممکنات میں سے تصور کیا جائے گا جبکہ متاثرہ مکمل طور پر پولیس کی نگرانی میں ہے تو کیا پھر پولیس کے ذریعہ بی جے پی رکن اسمبلی تک یہ تصاویر پہنچائی گئیں۔ پولیس اب سوال کو حل کرنے میں جٹ گئی ہے۔ ان تصاویر کو بی جے پی کی جانب سے جاری کئے جانے کے بعد سوشل میڈیا اور عوام میں کچھ اس طرح کا ردعمل ظاہر کیا جارہا ہیکہ آیا پولیس میں تو بی جے پی کے ہمدرد موجود نہیں ہیں۔ اگر ایسا ہے تو یہ وفاداری ٹی آر ایس حکومت کیلئے یقیناً مشکلات پیدا کرسکتی ہے چونکہ تشکیل تلنگانہ کے بعد اگر کے سی آر حکومت نے سب سے زیادہ کسی سرکاری محکمہ پر مہربانیاں کیں تو وہ صرف محکمہ پولیس ہے!۔ع