جو آج صاحب مسند ہیں کل نہیں ہوں گے

   

نہرو سے مودی کا تقابل… معمار vs مسمار
آر پار کی لڑائی … کانگریس کی تیاری

رشیدالدین
’’مبارک ہو مبارک ہو ظل الٰہی کو مبارک ہو‘‘۔ آخر ایسا کیا ہوگیا کہ بی جے پی اور گودی میڈیا نے آسمان سر پر اٹھالیا ہے اور ہر طرف نریندر مودی کو مبارکباد کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ بناوٹی انداز میں طرح طرح سے نریندر مودی کا گن گان کچھ ایسے کیا جارہا ہے ، جیسے انہوں نے دنیا کو فتح کرلیا ہو۔ ’’جو دلوں کو فتح کرلے وہی فاتح زمانہ‘‘ کہ مصداق کسی بھی حکمراں کی عوامی مقبولیت کا اندازہ اس کے کارناموں سے کیا جاسکتا ہے۔ بی جے پی اور مودی بھکت سارے ملک میں مصنوعی انداز کا جشن مناتے ہوئے یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ہندوستان کی تاریخ میں نریندر مودی نے سب سے زیادہ مدت تک وزارت عظمیٰ پر فائز رہنے کا ریکارڈ قائم کرلیا ہے ۔ نریندر مودی نے وزیراعظم کے عہدہ پر تسلسل کے ساتھ 12 سال مکمل کرتے ہوئے ملک کے پہلے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے ریکارڈ کو توڑ دیا ہے ۔پنڈت نہرو نے وزیراعظم کے عہدہ پر 4398 دن مکمل کئے تھے اور نریندر مودی نے 4399 دنوں کی تکمیل کرتے ہوئے نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ وزارت عظمیٰ پر دنوں کے اعتبار سے یقیناً نریندر مودی نے ریکارڈ قائم کیا ہے لیکن انسان کی شناخت اور اس کی اہمیت کا اندازہ نام سے نہیں بلکہ کام سے ہوتا ہے ۔ وزارت عظمیٰ پر برقراری کے ایام کو نہیں بلکہ عوام اور ملک کیلئے کارناموں کو پیش کیا جائے۔ پنڈت نہرو سے نریندر مودی کا تقابل اقتدار کے ایام کی بنیاد پر ضرور کیا جاسکتا ہے لیکن ملک کے لئے کارناموں اور قربانیوں کے معاملہ میں وہ پنڈت نہرو کے آگے بونے دکھائی دیں گے۔ اسکول اور کالج میں حاضری زائد ہو لیکن طالب علم فیل ہوجائے جبکہ کم حاضری کے باوجود کوئی ٹاپر بن کر ابھرے تو ظاہر ہے کہ اہمیت حاضری کی نہیں بلکہ امتحانی نتیجہ کی ہوگی۔ پنڈت نہرو اور نریندر مودی میں تقابل کی کوئی گنجائش نہیں۔ ایک آسمان کا روشن ستارہ ہے تو دوسرا زمین کا مصنوعی سیارہ ۔ پنڈت نہرو جدید ہندوستان (ماڈرن انڈیا) کے معمار ہیں جبکہ نریندر مودی نے ملک کے ہر شعبہ کو مسمار کیا ہے ۔ دستور ، قانون اور جمہوریت کی دھجیاں اڑانے والے کا نام نریندر مودی ہے جبکہ پنڈت نہرو نے ہر شہری کے حقوق کے ساتھ دستور ہند کی تیاری میں اہم رول ادا کیا اور ملک میں جمہوریت اور سیکولرازم کی حکمرانی کو یقینی بنایا۔ پنڈت نہرو نے عوامی شعبہ کے ادارے قائم کئے جبکہ نریندر مودی ان اداروں کو فروخت کر رہے ہیں۔ پنڈت نہرو نے دو لاکھ اپر پرائمری اور سکنڈری اسکولس قائم کئے تھے جبکہ 2014 سے 2024 تک ملک میں ایک لاکھ سرکاری اسکولس بند ہوچکے ہیں۔ نیتی آیوگ کی رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا کہ جس کے اجلاس کی صدارت نریندر مودی نے کی تھی۔ ملک کے ایک لاکھ سے زائد اسکولوں میں سنگل ٹیچر ہیں جبکہ 98500 اسکولوں میں لڑکیوں کے علحدہ ٹائلٹس نہیں ہیں۔ پنڈت نہرو نے 5 آئی آئی ٹی اور ایمس قائم کئے اور ریلوے نیٹ ورک کو سارے ملک میں پھیلا دیا۔ 1947 میں ہندوستان کا بجٹ 156 کروڑ تھا اور پنڈت نہرو نے اپنے اثاثہ جات سے ملک کو 157 کرؤڑ کا عطیہ دیا تھا۔ جدوجہد آزادی کے دوران پنڈت نہرو 3256 دن جیل میں رہے جو ایام کے اعتبار سے 9 سال ہوتے ہیں جبکہ وزیراعظم نریندر مودی کی پیدائش آزادی کے بعد ہوئی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نریندر مودی نے حالیہ من کی بات پروگرام میں کہا کہ 1947 کی جدوجہد آزادی کے دوران ان کے والد کی موت واقع ہوئی تھی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب نریندر مودی کے والد 1947 میں ملک کے لئے شہید ہوئے تو پھر 1950 نریندر مودی کا پیدائش کا سال کیسے ہوگا۔ پنڈت نہرو کے دور کے وزیر داخلہ سردار پٹیل 6 سال جیل میں تھے جبکہ مودی حکومت کے وزیر داخلہ امیت شاہ جرائم کے سبب نہ صرف جیل میں رہے بلکہ انہیں تڑی پار بھی کیا گیا تھا۔ سردار پٹیل نے ملک کی تمام ریاستوں اور آزاد مملکتوں کو ہندوستان میں ضم کیا جبکہ امیت شاہ ملک کی اہم اپوزیشن پارٹیوں میں پھوٹ پیدا کرنے کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔ نہرو کے دور میں ہر شہری پر قرض 75 تا 85 روپئے تھا جو آج بڑھ کر دو لاکھ روپئے ہوچکا ہے ۔ ڈالر کے مقابلہ روپیہ نہرو کے دور میں 4.76 روپئے تھا جو آج بڑھ کر 95 روپئے تک پہنچ چکا ہے۔ پنڈت نہرو کی صنعتی گھرانوں سے دوستی نہیں تھی لیکن آج اڈانی اور امبانی کو ملک کے وسائل حوالے کئے جارہے ہیں اور نریندر مودی بیرونی ممالک میں ان کے مارکٹنگ ایجنٹ کے رول میں دکھائی دے رہے ہیں۔ پنڈت نہرو اور نریندر مودی میں تقابل معمار اور مسمار ، تعمیر اور تخریب میں فرق کی طرح ہے۔ مودی کے مقابلہ پنڈت نہرو کی اہمیت گھٹانے کی کوشش کرنے والے جدوجہد آزادی میں ان کی قربانیوں اور ملک کی آزادی کے کارنامہ کو عوام کے دل و دماغ سے کبھی نکال نہیں پائیں گے۔ نہرو خاندان کی ملک کے لئے قربانیوں اور خدمات کا عشر عشیر بھی مودی کے کارناموں میں شامل نہیں ہوسکتا۔ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی نے ملک کے اتحاد و یکجہتی کیلئے جان نچھاور کردی اور آج بھی نہرو خاندان ہی عوامی مسائل پر جدوجہد کر رہا ہے۔ وزارت عظمیٰ کے معاملہ میں پنڈت نہرو کے ریکارڈ توڑنے کا دعویٰ آسان ہے لیکن گزشتہ 12 برسوں میں ملک کے ہر شعبہ کی تباہی کا حساب کون دے گا۔ نریندر مودی آج بھی کسی سے خوفزدہ ہیں تو وہ نہرو خاندان کے وارثین راہول گاندھی اور پرینکا گاندھی ہیں۔ مودی نے 12 برسوں میں ایک بھی پریس کانفرنس نہیں کی اور میڈیا کے سوالات کا سامنا نہیں کیا ۔ نہرو سے آگے بڑھنے کا دعویٰ کرنے والوں سے عوام پوچھ رہے ہیں کہ اچھے دن کے وعدہ کا کیا ہوا؟ ہر سال دو کروڑ ملازمتوں کی فراہمی کہاں تک پہنچی۔ بیرونی ممالک سے کالے دھن کی واپسی اور ہر شخص کے اکاؤنٹ میں 15 لاکھ جمع کرنے کی کیا اپ ڈیٹ ہے۔ لاکھوں کروڑوں افراد نے 15 لاکھ کی امید میں بینک اکاؤنٹس کھول رکھے ہیں اور انہیں 12 برسوں سے رقم کا انتظار ہے۔ سب کا ساتھ سب کا وکاس سب کا وشواس ، سب کا پریاس، میک ان انڈیا اور بیٹی بچاؤ ، بیٹی پڑھاؤ جیسے نعرے محض انتخابی جملہ بازی ثابت ہوئے۔
پنڈت نہرو کا سب سے اہم کارنامہ ملک کو متحد رکھنا تھا لیکن نریندر مودی کے 12 برس میں مذہبی بنیاد پر سماج کو توڑنے کا کام کیا گیا۔ انتخابی مہم کو نفرتی جذبات سے پُر بناتے ہوئے اکثریتی طبقہ کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکایا گیا۔ 56 انچ کا سینہ رکھنے کا دعویٰ کرنے والے نریندرمودی امریکہ کے آگے گھٹنے ٹیک چکے ہیں۔ امریکہ نے آبنائے ہرمز میں تین ہندوستانی جہازوں کو نشانہ بنایا اور تین ہندوستانی بحری جوانوں کی موت واقع ہوئی لیکن نریندر مودی زبانی احتجاج کرنے کے موقف میں بھی نہیں ہیں۔ نریندر مودی کے اصل کارنامے کشمیر کے خصوصی موقف سے متعلق دفعہ 370 کی برخواستگی ، طلاق ثلاثہ کے خلاف قانون سازی ، رام مندر کی تعمیر ، جی ایس ٹی کا نفاذ ، نوٹ بندی ، ووٹ چوری ، سیٹ چوری ، ماب لنچنگ ، نفرت کا پرچار ، مساجد اور مدارس پر بلڈوزر کارروائیاں اور مسلمانوں کو ووٹ کے حق سے محروم کرنا شامل ہیں۔ شائد یہی وجہ ہے کہ کانگریس پارٹی نے ملک میں مودی حکومت کے خلاف آر پار کی لڑائی کا اعلان کیا ہے۔ دہلی سے گاؤں تک کانگریس پارٹی عوام کے ساتھ یہ لڑائی لڑنے جارہی ہے ۔ اپوزیشن اچھی طرح جانتی ہے کہ میڈیا کے سہارے لڑائی نہیں کی جاسکتی کیونکہ میڈیا مودی حکومت کے لئے ایک ڈھال ہے۔ الیکشن کے ذریعہ بھی مودی حکومت کا مقابلہ اس لئے ممکن نہیں کیونکہ الیکشن کمیشن آزادانہ چناؤ کی ہمت نہیں کرسکتا اور انتخابی نتائج پرائم منسٹر آفس کے اشارہ کے مطابق جاری کئے جاتے ہیں۔ ملک میں کوئی بحران ہو ، حکومت کی کوئی جوابدہی نہیں ہے اور نہ کوئی ذمہ داری قبول کرتا ہے ۔ نیٹ امتحان کے پرچہ کے افشاء کی ذمہ داری آج تک مودی حکومت نے قبول نہیں کی جبکہ 22 لاکھ طلبہ کا مستقبل داؤ پر ہے۔ 12 برسوں میں 93 مختلف امتحانات کے پرچے لیک ہوئے ہیں۔ مودی حکومت کے فرضی کارناموں کے پروپگنڈہ کے دوران کانگریس پارٹی نے محسوس کرلیا کہ آر پار کی لڑائی صرف عوام کی مدد سے لڑی جاسکتی ہے کیونکہ عدلیہ ، انتظامیہ اور میڈیا تو مودی حکومت کے اشارہ کے منتظر رہتے ہیں۔ راہول گاندھی کو یہ اندازہ ہوچکا ہے کہ اب نہیں تو کبھی نہیں۔ مودی حکومت کو آئندہ پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں شکست دینے کیلئے صرف عوام کی تائید حاصل کی جاسکتی ہے۔ مدھیہ پردیش میں کھلے عام راجیہ سبھا کی نشست کی چوری کی گئی اور افسوس کہ سپریم کورٹ نے اس معاملہ میں مداخلت سے انکار کردیا۔ جن کا کام دستور کا تحفظ کرنا ہے ، وہ مفادات اور مصلحتوں کا شکار ہوچکے ہیں۔ ایک تجزیہ کے مطابق سوائے گجرات کے آسام ، مغربی بنگال ، بہار اور مہاراشٹرا میں بی جے پی نے ووٹ چوری کے ذریعہ کامیابی حاصل کی۔ اترپردیش ، پنجاب ، گوا ، منی پور ، ہماچل پردیش اور گجرات میں آئندہ سال انتخابات کیلئے کانگریس اپنی حلیف پارٹیوں کے ساتھ ابھی سے میدان میں اترنے کا فیصلہ کرچکی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ آر پار کی اس لڑائی میں عوام کی تائید کس حد تک حاصل ہوگی۔وزارت عظمیٰ پر نریندر مودی کے ریکارڈ پر راحت اندوری کا یہ شعر صادق آتا ہے ؎
جو آج صاحب مسند ہیں کل نہیں ہوں گے
کرایہ دار ہیں ذاتی مکان تھوڑی ہے