آندھرا پردیش میں سیاسی منظر نامہ تبدیل ، چندرا بابو نائیڈو کافی سرگرم
حیدرآباد ۔ 26 ۔ دسمبر : ( سیاست نیوز ) : آندھرا پردیش میں سیاسی منظر نامہ تیزی سے تبدیل ہورہا ہے ۔ حکمران جماعت وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے 20 سے زیادہ ارکان اسمبلی تلگو دیشم کے سربراہ سابق چیف منسٹر این چندرا بابو نائیڈو سے رابطہ بنائے ہوئے ہیں ۔ کسی بھی وقت تلگو دیشم پارٹی میں شامل ہونے کے لیے تیار ہیں ۔ آئندہ سال آندھرا پردیش میں لوک سبھا کے ساتھ اسمبلی انتخابات بھی منعقد ہونے والے ہیں جس کی تمام سیاسی جماعتوں نے تیاریوں کا آغاز کردیا ہے ۔ تلگو دیشم کے سربراہ چندرا بابو نائیڈو نے بڑے پیمانے پر انتخابی تیاریوں کا آغاز کردیا ہے ۔ انتخابی حکمت عملی ساز پرشانت کشور نے بھی آندھرا پردیش پہونچکر چندرا بابو نائیڈو سے ملاقات کی ہے ۔ تلنگانہ میں حکمران جماعت بی آر ایس کی جانب سے موجودہ تمام ارکان اسمبلی کو ٹکٹ دینے سے پارٹی کو شکست ہوئی ہے ۔ جس کا جائزہ لینے کے بعد چیف منسٹر آندھرا پردیش جگن موہن ریڈی 90 سے زیادہ ارکان اسمبلی کو ٹکٹ سے محروم کرتے ہوئے ان کی جگہ نئے چہروں کو انتخابی میدان میں اتارنے چند ارکان اسمبلی کے حلقے تبدیل کرنے کے اشارے دے رہے ہیں جس پر پارٹی کے بیشتر ارکان اسمبلی ناراضگی کا اظہار کررہے ہیں اور تلگو دیشم سے رابطہ بنائے ہوئے ہیں ۔ اس کے علاوہ چیف منسٹر جگن موہن ریڈی کے طرز عمل سے بھی چند ارکان اسمبلی ناراض ہیں ۔ دوسری طرف چندرا بابو نائیڈو پھر ایک مرتبہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے اپنی طرف سے ہر ممکنہ کوشش کررہے ہیں ۔ پہلے ہی پون کلیان کی جماعت جناسینا سے اتحاد کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ دوسری طرف عوامی مسائل پر احتجاجی رخ اختیار کرتے ہوئے عوامی تائید حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ نارا لوکیش کی پدیاترا بھی تلگو دیشم کی سیاسی طاقت میں اضافہ کرنے بالخصوص پارٹی کو نوجوانوں کی تائید حاصل کرنے میں معاون ثابت ہوئی ہے ۔۔ (2)