جگن کو ایک اور دھکہ، بی سی قائد آر کرشنیا نے راجیہ سبھا سے استعفیٰ دے دیا

   

بی سی تحفظات کی جدوجہد میں حصہ لینے کا اعلان، بی جے پی میں شمولیت کی قیاس آرائیاں
حیدرآباد۔/24 ستمبر، ( سیاست نیوز) آندھرا پردیش کی وائی ایس آر کانگریس پارٹی کو ایک اور دھکہ اس وقت لگا جب پسماندہ طبقات کے لیڈر آر کرشنیا نے راجیہ سبھا کی رکنیت سے استعفی دے دیا۔ آر کرشنیا نے اپنا استعفی راجیہ سبھا کے صدرنشین جگدیش دھنکر کے حوالے کیا اور صدرنشین نے استعفی قبول کرتے ہوئے اعلامیہ جاری کیا۔ آر کرشنیا کا تعلق اگرچہ تلنگانہ سے ہے لیکن وائی ایس جگن موہن ریڈی نے انہیں آندھرا پردیش سے راجیہ سبھا کی رکنیت دی تھی۔ آر کرشنیا کی میعاد مزید چار سال باقی ہے لیکن انہوں نے تلنگانہ میں بی سی طبقات کے تحفظات کی جدوجہد میں حصہ لینے کیلئے راجیہ سبھا سے استعفی دے دیا ہے۔ آر کرشنیا کے اس اچانک فیصلہ سے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھڑچکی ہے۔ وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے دو ارکان راجیہ سبھا بی مستان راؤ اور ایم وینکٹ رمنا نے حال ہی میں رکنیت سے استعفی دیا تھا۔ آر کرشنیا نے استعفی کے بارے میں کہا کہ راجیہ سبھا کی رکنیت کے چار سال باقی ہونے کے باوجود انہوں نے بی سی تحریک کو مستحکم کرنے کیلئے استعفی دیا ہے۔ انہوں نے تلنگانہ میں بی سی طبقات کے تحفظات میں اضافہ کیلئے بی سی مردم شماری تین ماہ میں مکمل کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ قانون ساز اداروں میں بی سی تحفظات میں اضافہ کی تائید کرنے والی پارٹی کو وہ تائید کریں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی میں شمولیت کیلئے آر کرشنیا نے استعفی دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق تلنگانہ میں بی سی طبقات کی تائید حاصل کرنے کیلئے بی جے پی نے قومی بی سی کمیشن کے صدرنشین کے عہدہ پر تقرر کا پیشکش کیا ہے۔ آر کرشنیا نے ابھی تک اپنے آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان نہیں کیا۔ آندھرا پردیش میں راجیہ سبھا کی جملہ 11 نشستیں ہیں اور 2019 میں وائی ایس آر کانگریس پارٹی نے تمام 11 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی تھی۔ حالیہ اسمبلی انتخابات میں تلگودیشم کی کامیابی کے بعد راجیہ سبھا میں نمائندگی کیلئے تلگودیشم قیادت فکرمند تھی۔ وائی ایس آر کانگریس کے تین ارکان راجیہ سبھا استعفی دے چکے ہیں اور تینوں نشستوں پر این ڈی اے امیدواروں کی کامیابی یقینی ہے۔1