دہلی: دہلی کی مشہور جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں جمعرات کو فلم دی سابرمتی رپورٹ کی اسکریننگ کے دوران پتھراؤ کے واقعات پیش آئے ۔ اس ہنگامے کے بعد اے بی وی پی کے طلباء نے بائیں بازو کی تنظیموں پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔وکرانت میسی کی فلم دی سابرمتی رپورٹ اپنی ریلیز کے وقت سے ہی چرچہ میں رہی ہے ۔ اس فلم کے حوالے سے کئی تنازعات اور مباحثے دیکھنے کو ملے ہیں۔ جمعرات کو جے این یو میں اس فلم کی اسکریننگ تھی، جس کے دوران ہنگامہ ہوا۔ اسکریننگ کے دوران کچھ طلبہ نے پتھراؤ کیا، جس سے ماحول خراب ہو گیا۔ واقعے کے بعد اے بی وی پی کے طلباء نے الزام لگایا کہ بائیں بازو کے طلباء ہر بار ایسی حرکتیں کرتے ہیں۔ تاہم، دہلی پولیس نے پتھراؤ کے الزامات سے انکار کیا ہے ۔دھیرج شرما کی ہدایت کاری والی فلم دی سابرمتی رپورٹ 15 نومبر کو ریلیز ہوئی تھی۔ فلم میں وکرانت میسی، راشی کھنہ، اور ردھا ڈوگرا نے مرکزی کردار ادا کیے ہیں۔ کہانی 2002 کے گودھرا سانحے اور گجرات کے فسادات کے پس منظر میں بنی ہے ۔ فلم کو ریلیز کے وقت تنقید کا سامنا کرنا پڑا، لیکن تنازعات کے باوجود یہ فلم باکس آفس پر کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔ کچھ لوگوں نے اس فلم کو یکطرفہ قرار دیا ، جبکہ کچھ نے تعریف کی ہے ۔ کئی ریاستوں نے اس فلم کو ٹیکس فری قرار دیا ہے ۔بی جے پی لیڈرس نے یہ فلم دیکھی اور تعریف کی ہے ۔ کچھ ریاستوں میں بی جے پی قائدین کیلئے فلم دیکھنے کے انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔