ہائیکور ٹ میں سنوائی کے بعد غور کرنے عدالت عظمیٰ کی تجویز
نئی دہلی :کرناٹک کے حجاب تنازعہ کے سلسلے میں جمعرات کو سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کرکے جلد سماعت کی اپیل کی گئی ہے ۔چیف جسٹس این وی رمنا کی زیر صدارت تین رکنی آئینی بینچ کے سامنے سینئر وکیل کپِل سبل نے آج ‘خصوصی ذکر’ کے تحت اس مسئلے کو بے حد ضروری بتاتے ہوئے اس کی جلد سماعت کرنے کی اپیل کی ۔چیف جسٹس نے درخواست گزار کے وکیل کے دلائل سننے کے بعد کہا،‘‘یہ معاملہ کرناٹک ہائی کورٹ میں زیر دوراں ہے ۔پہلے وہاں سماعت ہونے دیں۔اس کے بعد ہم اس پر غور کریں گے ۔کپل سبل نے فوری سماعت کی ضرورت بتاتے ہوئے دلیل دلیل دی اور کہا،‘‘امتحان ہونے والے ہیں۔ اسکول ۔کالج بند ہیں۔لڑکیوں پر پتھراؤ ہورہے ہیں۔اس مسئلے پر فوری طورپر غور کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے عدالت سے اس درخواست کو زیر فہرست کرنے کی اپیل کی۔چیف جسٹس کی جانب سے کرناٹک ہائی کورٹ میں سماعت کا انتظار کرنے کے لئے کہنے پر کپل سبل نے کہا کہ اگر ہائی کورٹ آج حکم پاس نہیں کرتا ہے تو سپریم کورٹ اسے خود منتقل کرکے سماعت کرسکتا ہے ۔اس پر چیف جسٹس نے کہا،‘‘ہم غور کریں گے ۔’’یہ تنازعہ کرناٹک میں پچھلے دنوں تب شروع ہوا تھا،جب ایک تعلیمی ادارے میں طالبات کو حجاب اتار کرکلاس میں آنے کے لئے کہا گیا تھا،جس سے انہوں نے انکار کردیا تھا۔طالبات کی جانب سے اس معاملے میں ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی گئی ہے ۔
خاتون جج کو آٹھ سال بعد عہدہ پر بحال کرنے سپریم کورٹ کا حکم
نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعرات کو مدھیہ پردیش کی ایک اڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کو ان کے عہدے پر آٹھ سال بعد پھر سے بحال کرنے کا حکم دیا ہے ۔ جسٹس ایل ناگیشور راو اور جسٹس بی آر گوئی کی بینچ نے خاتون جیوڈیشل افسر کو اپنے عہدے پر بحال کرنے کا آج حکم پاس کیا۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے فیصلے میں واضح طورپر کہا ہے کہ خاتون جیوڈیشیل افسر کا استعفی رضاکارانہ نہیں کہا جا سکتا۔ مدھیہ پردیش کے گوالیار کے اڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کے عہدے پر تعینات خاتون افسر نے ہائی کورٹ کے ایک جج کے خلاف جنسی استحصال کرنے کا الزام لگایا تھا۔ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی الزام لگایا تھا کہ ان سے بدلہ لینے کے ھلئے ان کا ٹرانسفر کردیا گیا تھا۔اس وجہ سے انہوں نے جولائی 2014 میں اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے خاتون جیوڈیشیل افسر کی خدمات بحال کرتے ہوئے کہا،‘‘انہیں جولائی 2014 میں استعفی کی تاریخ سے سبھی فائدے ملیں گے۔
،لیکن وہ گزرے سالوں کی تنخواہ کی حق دار نہیں ہوں گی۔’’ بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا، ‘‘درخواست گزار کو جلد از جلد ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج کے عہدے پر بحال کرنے کی ہدایت دی جاتی ہے ۔ درخواست گزار کو 15 جولائی 2014 سے خدمات میں جاری رہنے کا حقدار ہونا چاہیے ۔’’ بنچ نے کہا، ‘‘درخواست گزار کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج، گوالیار کے عہدے سے استعفیٰ کو رضاکارانہ نہیں سمجھا جا سکتا اور 17 جولائی 2014 کے ان کے استعفیٰ کو قبول کرنے کے حکم کو منسوخ قرار دیا گیا ہے ۔’’
عرضی گزاروں کا کہنا ہے کہ حجاب پہننا ان کا آئینی حق ہے اور اس سے انہیں نہیں روکا جا سکتا۔واضح رہے کہ اس تنازعہ کے سلسلے میں پچھلے دنوں کرناٹک کے اڈوپی میں تشدد کے واقعات بھی ہوئے تھے ۔کئی سیاسی پارٹیوں اور مذہبی تنظیموں نے اس معاملے کی حمایت کی جبکہ کئی نے مخالفت کی ہے ۔ملک کی کئی ریاستوں میں اس کی حمایت و مخالفت میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔