حکومت ہند اور وزارت حج کے آمرانہ رویہ کی شکایت ، کمیٹی کی بقاء کیلئے نوشاد اعظمی کی اپوزیشن قائدین سے اپیل
نئی دہلی: وزارت حج اور حکومت ہند کے مایوس کن اور آمرانہ رویہ سے مجبور ہوکر ملک کی اپوزیشن پارٹیوں کے رہنماؤں سے اس سوسالہ ادارہ حج کمیٹی آف انڈیا کی سالمیت کے لیے آج عوامی سطح سے مددکرنے کے لیے مؤدبانہ اپیل کی ہے ۔یہ اپیل آج یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عازمین حج کو مختلف طریقوں سے سہولت دلانے کے لیے کوشاں اتر پردیش حج کمیٹی سے دوبار منتخب حج کمیٹی آف انڈیا کے سابق ممبر حافظ نوشاد احمد اعظمی نے کی۔ انہوں نے کہا کہ بہت مجبور ہوکر آج ہم یہاں آپ لوگوں کے بیچ آئے ہیں اور آج آپ کو اس سلسلے میں تفصیلی طور سے بتانا چاہتے ہیں کہ کس طرح سے اس ادارہ پر ناجائز قبضہ کرکے مختلف طریقوں سے حج کمیٹی آف انڈیا کااربوں روپیوں کا فنڈ جوملک کے مسلمانوں کی امانت ہے اسے خرد برد کیا گیا اور قدیمی روایات اورحج ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے کے باعث مسلسل حج انتظامات میں خرابیاں پیدا ہوئیں اور بدانتظامی کے سبب حج کافی مہنگا اور پریشان کن بھی ہوا۔انھوں نے بتایاکہ 2016 میں یہ محکمہ وزارت خارجہ سے پی ایم او کے ایک ہدایت کے ذریعہ اقلیتی فلاح وبہبود کے محکمہ میں منتقل کیا گیا اس وقت حکومت کی طرف سے یہ کہا گیا کہ یہ کام ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت میں ادھورا رہ گیا تھا اس لیے اس کو پورا کیاگیا جبکہ سچائی سے آپ لوگوں کا واقف ہونا ضروری ہے کہ ڈاکٹر منموہن سنگھ کی حکومت 2008 یا 9 میں ایک میمورنڈم اس وقت کے اقلیتی محکمہ کے وزیر جو راجیہ سبھا کے رکن تھے ان کی طرف سے کچھ مسلم ممبران پارلیمنٹ سے دستخط کراکے دیاگیا تھا اس کے لیے ڈاکٹر صاحب نے ایک بہت اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل کردی اس کمیٹی کے سامنے بہت سے لوگوں نے ملاقات کرکے ساری باتیں رکھیں 1959 کے ایکٹ میں بھی یہ محکمہ وزارت خارجہ میں تھا 2002 میں بھی یہ وزارت خارجہ میں ہے اور حج غیرملکی سفر ہے اس لیے حج اسی محکمہ میں رہنا چاہیے اور نوڈل ایجنسی وزارت خارجہ ہی بہتر ہے اس کے بعد یہ سارا معاملہ ٹھنڈے بستہ میں چلاگیا اور 2014 میں این ڈی اے حکومت آنے کے بعد جن لوگوں کے اس پر دستخط تھے ان لوگوں نے اس کی پیروی کرکے اسے ٹرانسفر کرا یا اور اس کے بعد سے مستقل طور سے دھیرے دھیرے سفر حج مہنگا اور پریشان کن ہوتا چلا گیا اوراس ادارہ پر قبضہ کرنا سازش کا ایک حصہ تھا کیوں کہ شاید وزارت خارجہ کے افسران جو روایت اور رول کے مطابق کام کرتے تھے انھیں اس طرح استعمال نہیں کیا جاسکتا تھا۔اعظمی نے کہا کہ میرا مقصد کسی حکومت کی تنقید نہیں۔ میں 1998 سے کسی سیاسی جماعت کا ممبر نہیں ہوں اور صرف حج شعبہ میں کام کیاہے اور اس میں ہم نے اور ہمارے رفقا نے 5 برس بہت شدت کی تحریک چلائی تھی۔