حج 2022 کیلئے بیرونی ممالک کے 85 فیصد عازمین کو موقع فراہم کرنے کا فیصلہ

,

   


سعودی عرب سے صرف 15 فیصد عازمین کی شرکت، ممالک کیلئے کوٹہ الاٹمنٹ کی تیاریاں،عمر کی حد 65 سال مقرر

حیدرآباد۔/12 اپریل، ( سیاست نیوز) حکومت سعودی عرب نے حج 2022 میں بیرونی عازمین حج کو فریضہ حج کا موقع فراہم کرنے کے مقصد سے 85 فیصد کوٹہ بیرونی ممالک کیلئے الاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سعودی عرب کے العربیہ چینل نے حکومت کے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ جاریہ سال 10 لاکھ عازمین کو حج کی سعادت حاصل ہوگی جن میں مقامی اور بیرونی عازمین شامل ہوں گے۔ گزشتہ دو برسوں سے کورونا وباء کے پیش نظر بیرونی ممالک کے عازمین اس سعادت سے محروم رہے لہذا حکومت نے جاریہ سال 85 فیصد بیرونی عازمین کو موقع فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اندرون ملک عازمین کی تعداد صرف 15 فیصد رہے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ سعودی عرب کے ایک لاکھ 50 ہزار عازمین کو حج کی سعادت کا موقع دیا جائے گا جبکہ بیرونی ممالک سے 8 لاکھ 50 ہزار عازمین کی گنجائش رہے گی۔2020 اور 2021 میں دنیا بھر میں کورونا وباء کے پیش نظر سعودی حکومت نے محدود پیمانہ پر حج کا اہتمام کیا تھا اور دو برسوں تک بیرونی عازمین کو ویزا جاری نہیں کیا گیا۔ مقامی طور پر محدود تعداد میں عازمین کے ساتھ دو برسوں تک فریضہ حج کی تکمیل کی گئی۔ وزارت حج و عمرہ نے حال ہی میں حج 2022 کیلئے ایک ملین بیرونی اور مقامی عازمین کا کوٹہ مقرر کیا ہے۔ وزارت صحت کی سفارشات کی بنیاد پر ہر ملک کیلئے کوٹہ الاٹ کیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ جن ممالک میں کورونا وباء کا زیادہ اثر رہا وہاں سے کم تعداد میں عازمین کو اجازت دی جائے گی۔ وزارت حج نے جاریہ سال حج کیلئے عمر کی حد 65 برس مقرر کی ہے اور عازمین کو حکومت سعودی عرب کے منظورہ ویکسین کی دونوں خوراک حاصل کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ سعودی عرب روانگی سے 72 گھنٹے قبل منفی پی سی آر ٹسٹ کی رپورٹ داخل کرنی ہوگی۔ وزارت حج نے عازمین کو ہدایت دی ہے کہ وہ صحت سے متعلق حکومت کی ہدایات پر سختی سے عمل کریں اور ایام حج کے دوران اپنی اور دیگر عازمین کی صحت کی برقراری کیلئے ضروری احتیاطی قدم اٹھائیں۔ اسی دوران معاون سکریٹری حج ہشام سعید کے مطابق جاریہ سال بیرونی ممالک سے عازمین کی تعداد زیادہ رہے گی۔ کسی بھی ملک کے عازمین پر حج کے حوالے سے کوئی پابندی نہیں ہوگی۔ حج کوٹہ الاٹ کرنے کے سلسلہ میں مسلم وزرائے خارجہ کی عمان کانفرنس میں جن اصولوں کو طئے کیا گیا ان میں 1000 کی آبادی پر ایک شخص کو حج کا موقع ملے گا۔ عازمین حج کیلئے بوسٹر ڈوز کے لزوم سے متعلق سوال پر سعودی حکام نے کہا کہ یہ پابندی اندرون ملک سے حج کرنے والے عازمین پر لاگو ہوگی۔ جاریہ سال حکومت سعودی عرب نے جدید ٹکنالوجی پر مبنی منصوبہ کو قطعیت دی ہے تاکہ عازمین کو کوئی دشواری نہ ہو۔ ہجوم کو کنٹرول کرنے کیلئے جدید ترین ٹکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا۔ عازمین کو مقررہ اوقات کے تحت مناسک حج کی ادائیگی کا پابند بنایا جائے گا۔ر