حسینہ واجد حکومت گرانے میں ملوث ہونےکا الزام مضحکہ خیز : امریکہ

   

واشنگٹن: امریکہ نے بنگلہ دیش میں حکومت گرانے میں ملوث ہونیکے حسینہ واجدکے الزام کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔بنگلہ دیشی اخبار کے مطابق پریس بریفنگ میں امریکی وزارت خارجہ کے نائب ترجمان ویدانت پٹیل سے ایک صحافی نے سوال کرتے ہوئیکہا کہ حسینہ واجد نے امریکا پر الزام عائدکیا ہیکہ اس نے بڑے پیمانے پر احتجاج کی سازش کی تھی جو آخرکار ان کے اقتدار سے ہٹنے کا سبب بنی، تو آپ اس پر کیا تبصرہ کریں گے؟اس پر ویدانت پٹیل نے کہا کہ یہ مضحکہ خیز ہے، یہ الزام کہ امریکہ حسینہ واجد حکومت کے خاتمے میں ملوث ہے، بالکل جھوٹا ہے۔ خیال رہیکہ ساڑھے 15 سال سے برسراقتدارسابق بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد 5 اگست کو طلبا کی قیادت میں بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں کے بعد مستعفی ہوکر ہندوستان فرار ہوگئی تھیں۔گزشتہ دنوں بھارتی میڈیا میں سامنے آنے والی خبر کے مطابق حسینہ واجد نے قریبی ساتھیوں کو پیغام میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکا خلیج بنگال پر تسلط قائم کرنا چاہتا تھا اور سینٹ مارٹن کے جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے جزیرے کا کنٹرول امریکہ کے حوالے نہیں کیا تو میری حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور استعفیٰ بھی اس لیے دیا کہ طلبا اور عوام کی مزید لاشیں نہ گریں۔حسینہ واجد نے دعویٰ کیا کہ میں اقتدار میں رہ سکتی تھی اگر میں جزیرے پر خودمختاری چھوڑ دیتی اور امریکہ کو خلیج بنگال پر غلبہ حاصل کرنے دیتی۔