حضرت امام حسینؓ کا پیغام

   

ڈاکٹر سخاوت حسین سندرالوی
نواسہ رسول جگر گوشہ علی و بتول حضرت امام حسین نے یزید کی طرف سے مطالبہ بیعت کے جواب میں فرمایا تھا ’’ اے گورنر ! تم باخبر ہو کہ ہم نبوت کے اہل بیت ہیں ، رسالت کی کان ہیں ، فرشتوں کی آمد و رفت کا مرکز ہیں ، خالق نے ہمارے ہی ذریعہ ابتدائے کائنات کی اور ہمارے ہی ذریعہ انتہاء کرے گا ، اور یزید مردِ فاسق ہے ، شراب خور ، قاتل اور علی الاعلان احکام اسلام کو پامال کرنے والا ہے ، تم جلد بازی نہ کرو ، صبح ہونے دو انتظار کرلیتے ہیں ، کل معلوم ہو جائے گا ہم میں سے کون حقدارِ خلافت و بیعت ہے ‘‘ ۔
فرزند رسول کے اس مختصر خطبہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ معرکہ کربلا یزید کے جرائم اور فسق و فجور کے سبب ہوا ۔ امام عالی مقام نے اپنے اس جملہ سے کہ ’’ مجھ جیسا اُس جیسے کی بیعت نہیں کرسکتا ‘‘ آدم سے خاتم تک ہر نبی کی وکالت کردی اور قیامت تک امتیاز حق و باطل قائم کردیا ۔ آج امام عالی مرتبت کا یہ پیغام زبان زد عام ہے کہ کسی بھی حق والے کو باطل کی ہاں میں ہاں نہیں ملانا چاہئے ۔ امام عالی مقام نے دنیائے انسانیت کو درست غیرت دیا ، نیز حق والوں کو جذبہ ہمت دیا کہ ظاہری وسائل سے مرعوب ہوکر کلمہ حق کی تبلیغ روکنا نہیں چاہئے اور اللہ کی نصرت کو ہی ہمیشہ وسیلہ ظفر سمجھنا چاہئے ۔ آپ اصلاح اُمت ، احکام اسلامی کی حفاظت اور دین داری کی تحریک کے لئے نکلے تھے ، جب طے ہو چکا کہ آپ ترک مدینہ کریں گے تو گلی میں مروان بن حکم نے آپ سے کہا ’’ کیا ممکن نہیں آپ ترک مدینہ نہ کریں ‘‘ ۔ تو آپ نے فرمایا ’’ اگر اُمت محمد پر یزید جیسا حاکم مسلط ہو جائے تو پھر اسلام کا فاتحہ پڑھ دینا چاہئے ‘‘ ۔ قبر رسول اکرم ﷺ پر آپ نے بارگاہ ایزدی میں عرض کیا ’’ مجھے نیکی پسند ہے ، بدی سے نفرت ہے ، خدایا اس قبر اور صاحب قبر کا واسطہ مجھے اپنی اور اپنے رسول کی رضا بخش دے ‘‘ ۔ جب حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے روکنا چاہا تو فرمایا ’’ بنی اسرائیل طلوع فجر سے لے کر طلوع آفتاب تک ہر روز ستر انبیاء کا قتل کرتے تھے ‘‘ ۔ امام کا مطلب یہ تھا کہ قتل سے ڈرکر تبلیغ دین نہیں روک سکتے ۔ جب ابن عباس رضی اللہ عنہ نے سفر عراق سے روکنا چاہا تو فرماتے ہیں ’’ یہ اس وقت تک چین سے نہ بیٹھیں گے جب تک میرا خون نہ بہا دیں ‘‘ ۔ حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے جواب میں فرمایا ’’ اگر میں فرات کے کنارے پر دفن ہوؤں تو اس سے بہتر ہے کہ جوارِ کعبہ میں دفن کیا جاؤں ‘‘ ۔ گویا امام عالی مقام نہیں چاہتے تھے کہ حرم نبوی یا حرم الہی قتل گاہ بنے ۔
حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے فرماتے ہیں ’’ مجھے جیسے حکم دیا گیا ہے ویسے ہی نکل پڑا ہوں ‘‘ ۔ یہاں سفر امام حسین امر رب اور حکم رسول سے ثابت ہو رہا ہے ۔ اپنی خواہر گرامی سیدہ زینب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ’’ بہن تقدیر خدا ضرور پوری ہوگی‘‘ ۔ گویا حسین بن علی قضا و قدر کی پیروی کرتے ہوئے چلے ۔ انسان کو زندگی میں قضا و قدر پر کبھی اعتراض نہیں کرنا چاہئے ، اس لئے خدا بہتر جانتا ہے کہ انسان کو کس حال میں رکھے ۔ اہل کوفہ کو آپ نے تحریر فرمایا کہ ’’ تم نے لکھا تھا کہ ہمارا کوئی امام نہیں ، ہمیں ہدایت کریں ، ہم خود سے تو نہیں آئے تمہارے بلانے پر آئے ہیں ، اب تم نے نظریں پھیر لیں ‘‘ ۔ کربلا کے جوار میں پہنچ کر فرمایا ’’ ہم حق کے سواء ایک قدم نہ اٹھائیں گے ‘‘ ۔ گویا کربلا حق و باطل کی جنگ ہے ۔ امام عشق لقائے الہی کے لئے بے تاب تھے ، اسی لئے تو فرماتے تھے ’’ اے خالق ! میں نے تیرے لئے مخلوق کو چھوڑ دیا تاکہ تجھے دیکھوں ‘‘ ۔ کربلا پہنچ کر بنی ہاشم کیلئے خط لکھا تو فرمایا ’’ دنیا فانی اور آخرت باقی ہے ‘‘ ۔ شب عاشورہ میں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا ’’ حمد خدا کہ جس نے ہمیں نبی اور قرآن عطا کیا ‘‘ ۔ اپنے احباب کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ’’ اِلہٰ نے آپ کو اِذنِ جہاد دیا مگر میں بیعت کا قلاوہ تمہاری گردنوں سے اُتارتا ہوں ‘‘ ۔ اسی اثناء میں اپنے بھائی حضرت عباس سے کہا ’’ بھیا ! چراغ گل کردو ، تاکہ اُٹھ کے جانے والوں کو شرمساری نہ ہو ‘‘ مگر کوئی اُٹھ کر نہ گیا ۔
لشکر اعداء کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا ’’ اگر تم جابر حکمرانوں کی وجہ سے دین میں آزاد نہیں ہو تو کم از کم دنیا میں تو آزاد ہو جاؤ ‘‘ ۔ روز عاشورہ آپ نے شہادت سے چند لمحہ قبل فرمایا تھا ’’ اے فوج اشقیاء ! تم پر میری نصیحتوں کا اثر نہ ہوگا اس لئے کہ تمہارے پیٹ حرام سے بھرے ہوئے ہیں ‘‘ ۔ اپنی اولاد کو حرام سے دور رکھنا چاہئے ، تاکہ نصیحت کا اثر ہوتا رہے ۔ اللہ سبحانہ تعالی ہم سب کو حضرت امام حسینؓ کے پیغام کو عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ (آمین)