حافظ صابر پاشاہ
حضرت خواجہ بندہ نواز گیسودرازؒ
حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز رحمۃ اللہ علیہ کی ذات نہ صرف دکن بلکہ پورے برصغیر کیلئے سرچشمۂ ہدایت و معرفت ہے۔حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو درازؒ سلسلۂ چشتیہ کے عظیم پیشوا تھے، جنہوں نے اپنی تعلیمات کے ذریعے محبت، رواداری، اخوت اور خدمتِ خلق کا درس عام کیا۔ آپؒ نے دکن، بالخصوص گلبرگہ کو اپنی روحانی سرگرمیوں کا مرکز بنایا اور یہاں علم و عرفان کی ایسی شمع روشن کی جو آج بھی دلوں کو منور کر رہی ہے۔ آپؒ کی خانقاہ نہ صرف ذکر و فکر کا مرکز رہی بلکہ علم و ادب کا بھی ایک عظیم ادارہ بنی، جہاں سے بے شمار علما، صوفیا اور اہلِ قلم نے فیض حاصل کیا۔ آپؒ نے ہمیشہ انسان کو انسان سے جوڑنے، دلوں میں محبت پیدا کرنے اور نفرتوں کو مٹانے کا پیغام دیا۔ دکن کی گنگا جمنی تہذیب میں آپؒ کا کردار ایک مضبوط ستون کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں مختلف طبقات کے لوگ آپؒ کے آستانے پر حاضر ہو کر روحانی سکون حاصل کرتے ہیں۔ آپ شریعت و طریقت کے مجمع البحرین تھے ۔ علم و حکمت ، فضل و کمال ، سلوک و عرفان ، طریقت و معرفت ، ولایت و روحانیت اور زہد و تقویٰ کی ساری خوبیاں ایک مرکز پر سمٹ آئی تھیں ، جن کے سبب آپ کی شخصیت فائق الاقران بن گئی تھی ۔ آپ کی ذات اپنے اندر بڑی کشش اور وسعت و جامعیت رکھتی ہے ۔ آپ جامع العلوم و الفنون اور جامع الحیثیات و الکمالات تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے اپنے وقت کے اکابر علماء و مصنفین اور عظیم المرتبت مشائخِ طریقت نے آپ کے علم و ولایت اور بلند علمی و روحانی مقام کا کھلے دل سے اظہار و اعتراف کیا ہے ۔ حضرت کے قلم سے بہت ساری کتابیں وجود میں آئی ہیں ۔ آپ کے پیر و مرشد حضرت نصیر الدین چراغ دہلوی کی وفات ۷۵۷ ھ میں ہوئی ۔ اس کے بعد آپ ایک زمانے تک دہلی میں رہے اور اپنے علم و روحانیت سے بندگانِ خدا کو فائدہ پہنچاتے رہے اور ۸۰۱ ھ میں جب کہ امیر تیمور نے دہلی پر حملہ کیا ، آپ دہلی سے ہجرت کر کے گلبرگہ شریف پہنچے اور اس مقام کو اپنے قدومِ میمنت لزوم سے رشکِ جنت بنا دیا ۔ حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز علیہ الرحمہ کو اولیائے چشت اہلِ بہشت میں یہ امتیاز و انفراد بھی حاصل ہے کہ آپ کثیر التصانیف عالم و صوفی گذرے ہیں ۔ آپ نے مختلف موضوعات پر ایک سو سے زیادہ کتابیں تحریر فرمائی ہیں ۔ آپ نے بیک وقت تقریر و تحریر دونوں مورچوں کو سنبھالا اور اسلام کی ترویج و اشاعت کے حوالے سے گراں قدر خدمات انجام دیں ۔ آپ نے تصنیفی میدان میں جو گراں قدر نقوش چھوڑے ہیں ، ان کی تجلیوں سے ایوانِ شریعت و طریقت میں آج بھی اُجالا پھیلا ہوا ہے ۔