حضرت سیدنا خواجہ مخدوم علاؤالدین احمد صابر کلیریؒ

   

حافظ محمد صابر پاشاہ

برصغیر کو یہ اعزاز حاصل رہا ہے کہ یہاں اسلام کی شمع روشن کرنے اور اسلامی تہذیب و اقدار کے فروغ میں بزرگانِ دین نے غیر معمولی کردار ادا کیا۔ یہ وہی سرزمین ہے جہاں حضرت داتا گنج بخشؒ نے علم و معرفت کے چراغ روشن کیے، حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ نے محبت و انسانیت کا پیغام عام کیا، حضرت قطب الدین بختیار کاکیؒ اور حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ نے قلوب کی اصلاح کا فریضہ انجام دیا، حضرت نظام الدین اولیاءؒ نے محبت کو اپنا شعار بنایا اور حضرت بہاؤالدین زکریا ملتانیؒ نے علم و تصوف کے مراکز قائم کیے۔اسی روحانی قافلے کی ایک درخشاں کڑی حضرت سیدنا خواجہ مخدوم علاؤالدین احمد صابر کلیریؒ ہیں، جن کا اسمِ گرامی آج بھی تاریخِ تصوف کی پیشانی پر ایک روشن عنوان کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپؒ صبر، مجاہدہ، استقامت، توکل اور جذبۂ الٰہی کی ایسی تصویر تھے کہ آپ کی پوری زندگی اہلِ سلوک کے لیے ایک سبق اور اہلِ محبت کے لیے ایک روشن مثال بن گئی۔آپ ؒ کی ولادت ۱۹ ربیع الاول ۵۹۲؁ ہجری، بروز جمعرات، ہرات (افغانستان) میں ہوئی۔ آپؒ کے والد ماجد حضرت عبداللہ ایک متقی، صاحبِ دل اور صاحبِ فیض بزرگ تھے، جبکہ آپؒ کی والدہ ماجدہ بی بی ہاجرہ، حضرت بابا فرید الدین مسعود گنج شکرؒ کی ہمشیرہ تھیں۔ والد کے وصال کے بعد والدہ ماجدہ آپؒ کو لے کر اجودھن، موجودہ پاکپتن شریف، حاضر ہوئیں اور اپنے برادرِ بزرگ حضرت بابا فریدؒ کی خدمت میں پیش کرکے عرض کیا کہ اب اس بچے کی تعلیم و تربیت آپ ؒکے سپرد ہے۔چنانچہ آپؒ کی تعلیم و تربیت کا خصوصی اہتمام کیا گیا۔ روایت کے مطابق حضرت صابر کلیریؒ نے مختصر مدت میں علومِ ظاہری میں غیر معمولی کمال حاصل کیا اور پھر آپؒ کی تربیت کا سفر علومِ باطنی کی طرف بڑھا۔
حضرت صابر کلیریؒ کی زندگی مجاہدات، ریاضات اور ذکر و فکر سے عبارت تھی۔ دنیاوی آسائشوں سے بے نیازی، ذکرِ الٰہی میں انہماک اور عبادت میں استقامت آپؒ کی زندگی کے نمایاں اوصاف تھے۔
حضرت بابا فریدؒ نے آپؒ کو خرقۂ خلافت عطا فرمایا، سندِ خلافت تحریر فرمائی اور آپؒ کو دعوت و ارشاد کے لیے مختلف علاقوں کی جانب روانگی کا حکم ہوا، مگر حالات نے آپؒ کو کلیر شریف کی طرف پہنچایا۔حضرت بابا فریدؒ نے حضرت صابر کلیریؒ کو وہاں دین کی خدمت اور خلقِ خدا کی اصلاح کا فریضہ سپرد فرمایا۔آپؒ نے وہاں پہنچ کر دعوت و اصلاح کا آغاز کیا۔ آپؒ دنیا اور دنیا والوں کی ظاہری نمود سے بے نیاز رہتے اور ہمیشہ یادِ الٰہی میں مشغول رہتے تھے۔ آپؒ کے حالاتِ زندگی میں مجاہدہ، استغراق اور جذب کی متعدد روایات ملتی ہیں جو آپؒ کے غیر معمولی روحانی مقام کی عکاسی کرتی ہیں۔حضرت سیدنا خواجہ مخدوم علاؤالدین علی احمد صابر کلیریؒ کا وصال ۱۳ ؍ ربیع الاول ۶۹۰؁ ھ کو ہوا۔ آپؒ کا مزارِ اقدس کلیر شریف، ضلع سہارنپور، ہندوستان میں واقع ہے اور آج بھی عقیدت مندوں کے لئے مرکزِ عقیدت و روحانیت ہے۔ آپؒ کا سالانہ عرسِ مبارک کلیر شریف میں قدیم روایات کے مطابق منعقد ہوتا ہے اور ہندوستان کے مختلف شہروں کے علاوہ دیگر علاقوں میں بھی آپؒ کی یاد میں محافل اور روحانی اجتماعات منعقد کیے جاتے ہیں۔