حضرت سیدنا یحییٰ پاشاہ قبلہؒ

   

سید محمد بادشاہ حسینی حسانؔ
دنیا میں آنے والا ہر شخص چند دنوں کے لئے آتا ہے اور چلا جاتا ہے لوگ اُسے کچھ دن یاد کرتے ہیں اور بھول جاتے ہیں لیکن بعض ایسے بھی بندگانِ خدا ہوتے ہیں جن کے نام اور تذکرے صدیوں بعد بھی لوگوں کی زبان پر رہتے ہیں ۔ اﷲ اپنے محبوبین کے ناموں میں وہ تاثیر دے دیتا ہے کہ جس سے تمام مخلوق مستفید ہوتی ہے۔ حدیثِ قدسی میں فرمانِ خداوندی ہے ’’صالحین کا ذکر گناہوں کا کفارہ ہے ‘‘ ۔ آج جس ہستی کا ذکر کیا جارہا ہے وہ حضرت سیدنا یحییٰ پاشاہ ؒ کی ذاتِ مبارکہ ہے ۔ آپؒ کو وصال فرمائے ۷۰سال کا طویل عرصہ گذرچکا ہے لیکن آپؒ کی یاد لاکھوں دلوں میں آج بھی موجود ہے اور آپؒ کا ذکر ہر خاص و عام کی زبان پر جاری ہے ۔ آپؒ کا پورا نام سید غلام محمد یحییٰ حسینی ، کنیت ’’ابوالسہل ‘‘ اور تخلص حاذقؔ تھا ۔ آپؒ یحییٰ پاشاہ قادری سے مشہور ہوئے ۔ آپؒ کی ولادت ۲۳ صفر ۱۳۰۳؁ ہجری مطابق ۲؍ ڈسمبر ۱۸۸۵؁ ء بمقام قاضی پورہ حیدرآباد ہوئی ۔ آپؒ کا شجرہ نسب حضرت سیدنا امام محمد تقی علیہ السلام سے جاملتا ہے ۔ آپؒ کا خاندان علم و فضل اور شجاعت و سپاہ گری کی وجہ سے مشہور تھا ۔ حضرت سیدنا یحییٰ پاشاہ ؒ حضرت سید محمد صدیق علی حسینی المعروف خواجہ محبوب اللہ ؒ کے منجھلے صاحبزادے تھے ۔ حضرت خواجہ محبوب اﷲ ؒ کی ذاتِ بابرکت سارے دکن میں مشہور ہے اور آپؒ کے فیضانِ سلسلہ سارے عالم میں پھیلا ہوا ہے ۔ حضرت یحییٰ پاشاہؒ کی والدہ ماجدہ بلدیہ کے عظیم صوفی بزرگ حضرت غلام شیخن احمد شطاریؒ کی صاحبزادی تھی ۔ الغرض حضرت کو ہر دو طرف سے عظیم المرتبت ساداتِ حسینی سے نسبت حاصل تھی۔ ابتدائی تعلیم و تربیت آپ کے والد بزرگوار و پیر ومرشد حضرت خواجہ محبوبؒ اﷲ کے پاس ہوئی ۔ آپؒ ابھی دس برس کے تھے کہ والد ماجد کا سایہ سر سے اُٹھ گیا ۔ اس کے بعد آپؒ نے اپنے عم محترم سیدالشیوخ حضرت سید عمر قادری ؒ کے پاس زانوئے ادب طئے کیا ۔ دارالعلوم سے مولوی اور پنجاب یونیورسٹی سے عالم کا کورس مکمل کیا۔ آپؒ کو کئی علوم و فنون میں مہارت حاصل تھی ۔ اُردو ، عربی اور فارسی میں عبور حاصل تھا ۔ حضرت خواجہ محبوب اللہ ؒ کے وصال کے بعد آپ کی تربیت آپؒ کے برادر بزرگ حضرت سید عثمان علی حسینی فائقؔ ؒ کے ہاتھوں ہوئی ۔ حضرت عثمان میاں قبلہ ؒ نے آپؒ کو چاروں سلاسل طریقت میں خلافت و اجازت سے سرفراز کیا ۔ حضرت عثمان میاں قبلہ ؒکے حجاز مقدس میں وصال کے بعد آپؒ ہی جانشین مقرر ہوئے اور اپنے آباء و اجداد کے روحانی مشن کو مزید آگے بڑھایا ۔ آپؒ شریعت مطہرہ کے سخت پابند تھے ۔ آپ کا در ہر مرض کا کیمیا تھا ۔ آپ ایک بہترین شاعر ، واعظ اور ادیب تھے ۔ آپ کا مجموعہ کلام ’’انوارِ غیب‘‘ کے نام سے طبع ہوچکا ہے ۔ آپ نے ۱۳۳۱؁ ہجری میں حضرتہ میمونہ بیگم صاحبہ ؒ بنت حضرت غلام غوث شطاریؒ سے نکاح فرمایا جن کے بطن سے چار صاحبزادے اور ایک صاحبزاری تولد ہوئیں۔ ۳؍ صفر ۱۳۷۳؁ کو یہ آفتابِ علم غروب ہوگیا ۔ آپؒ کی نمازِ جنازہ چار مساجد میں ادا کی گئی ۔ آپؒ کی تدفین ریاض مدینہ مصری گنج میں عمل میں آئی ۔ ہر سال آپؒ کا عرس مبارک ۳ ، ۴ ، ۵ صفر کو بصدعقیدت و احترام منایا جاتا ہے۔