حضرت سید شاہ اسمعٰیل قادری ؒ

   

محمد معین الدین اختر
حضرت سید شاہ اسمعٰیل قادری ؒ نویں صدی ہجری کے وسط میں ایک خدا ترس اور نیک سیرت بزرگ گزرے ہیں ۔ خوش خلقی ، غرباء و فقراء کے ساتھ ہمدردی ، مہمان نوازی ، سادات اور علماء سے محبت آپؒ کے نمایاں اوصاف تھے ۔ آپؒ سادات حسینی ہیں۔ آپؒ کو اس جہانِ فانی سے پردہ فرمائے ۵۶۵ سال سے زائد کا عرصہ ہوگیا ، دنیوی اقتدار رکھنے والی بڑی سے بڑی شخصیت بام عروج پر پہنچ کر روبہ زوال ہوجاتی ہے لیکن اﷲ کے محبوب بندے یعنی اولیاء اﷲ اور بزرگان دین کو جو قبول عام حاصل ہوتا ہے اسے کوئی زوال نہیں۔ اولیاء اﷲ اور بزرگان دین کی عظمت و مقبولیت کا راز یہ ہے کہ یہ خدا کے سچے و اطاعت گذار بندے ہوتے ہیں اور خود کو ذات حق میں فنا کردیتے ہیں۔ حضرت سید شاہ اسمعٰیل قادری ؒ کے والد محترم کا نام حضرت سید حسینؒ تھا اور اُن کا سلسلہ نسب آگے بڑھتے ہوئے حضرت امام زین العابدین ؓ بن حضرت امام حسینؓ شہید کربلا تک پہنچتا ہے ۔ حضرت بیدر سے اپنی اہلیہ حضرت زہرہ بیؓ اور تینوں فرزندوں حضرت سید شاہ مہتاب قادریؒ ، حضرت سید شاہ چندا قادریؒ اور حضرت سید شاہ فیض اللہ قادریؒ کے ساتھ گھوڑ واڑی شریف تشریف لائے ۔ آپؒ پانچوں حضراتؒ کی مزارت گھوڑ واڑی شریف میں واقع درگاہ شریف میں ہیں۔ حضرت ایک سالک مجذوب تھے اور جذب کے عالم میں دکن تشریف لائے تھے اور محمد آباد بیدر کے غاروں میں اپنے آپ کو پوشیدہ رکھا تھا ۔ حضرت کے تصرفات اور فیضان بے شمار ہیں۔ حضرت سید شاہ اسمعٰیل قادری ؒ کا سالانہ سہ روزہ عرس شریف ۲۹ ذی الحجہ سے یکم محرم یا ۲ محرم بمقام گھوڑواڑی شریف ، تعلقہ ہمناآباد ، ضلع بیدر ( کرناٹک ) میں نہایت عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے ۔