ڈاکٹر نادر المسدوسی
ہر سال ماہ ربیع الاول جیسے ہی آتا ہے ساری دنیا میں اُمت مسلمہ میں رسول اﷲ ﷺ کی ولادت باسعادت کی خوشیاں منانے کا بہت زیادہ جذبہ پروان چڑھتا ہے اور دنیا کے تمام مسلم علاقوں میں اس دلی خوشی کے اظہار کیلئے جلسے ، جلوس ، نعتیہ مشاعرے ، لوگوں کے ساتھ حسن سلوک ، غریبوں اور ضرورتمندوں کی مدد یہ سبھی مذکورہ و دیگر خوشی کے لئے جو بھی عمل کئے جائیں گے وہ قابل قبول اور نیکیوں میں اضافہ کا وسیلہ بن سکتے ہیں بشرطیکہ یہ شریعت کے دائرے میں یعنی قرآن حکیم اور سنت رسول ﷺ کے دائرے کار میں ہوں تاکہ دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت بھی کامیاب ہوسکے ۔
قرآن مجید کی سورۃ الاحزاب آیت نمبر ۲۱ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’یقینا تمہارے لئے اﷲ کے رسولؐ میں بہترین نمونہ ہے ۔ ہر اُس شخص کے لئے جو اﷲ اور یوم آخرت کی اُمید رکھتا ہے اور اﷲ کو کثرت سے یاد کرتا ہے ‘‘ ۔اس آیت کی روشنی میں یہ بات واضح ہوگئی کہ اُمت مسلمہ کے ہر فرد کو اس آیت کو اپنی زندگی کا محور بنانا چاہئے یعنی یہ کہ صبح بیدار ہونے سے لیکر رات سونے تک کا جو وقفہ حیات ہے اُس کو اُسی محور کے اطراف میں اور پیش نظر رکھتے ہوئے اپنی زندگی گذارنے کی حقی المقدور مساعی کریں ۔ حضور اکرم ﷺ کی تمام حیاتِ طیبہ کی پیروی کرنا ہر مسلمان کا فریضہ ہے اور ان تعلیمات کو موجودہ حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے ملت اسلامیہ کے روبرو پیش کرنا علمائے کرام ، مشائخین عظام اور مذہبی رہنماوں کا بالخصوص فریضہ ہوتا ہے کہ وہ حق کو بغیر کسی مصلحت کے عوام الناس بالخصوص سیاسی و سماجی قائدین کے روبرو پیش کردیں ۔ حضور اکرم ﷺ کی تمام حیاتِ مبارکہ یعنی ولادت سے لے کر چالیس برس کی عمر تک یعنی نبوت سے قبل تک کا عرصہ حیات بھی اُمت مسلمہ کے لئے نمونہ ہے ۔ یہاں پر مختصر سا جائزہ لیتے ہیں کہ یہ دور کس طرح تھا اور بالخصوص مکہ اور اطراف کے علاقوں میں کیسا ماحول تھا تو یہ بات عام ہے اور ہر کوئی جانتا ہے مشرکوں کا دور دورہ تھا ، بتوں کی پرستش ، قتل و غارت گیری ، نسل در نسل بدلہ لینے کے تحت قتل و خون کا سلسلہ جاری رکھنا ، اپنی ہی لڑکیوں کو درگذر کرنا ، زناکاری ، سود خوری ، شراب نوشی و دیگر سماجی برائیاں عام تھیں جس میں مبتلا رہ کر یہ لوگ فخر محسوس کرتے تھے ۔ ایسے پراگندہ ماحول میں نبی آخرالزماں محمد ابن عبداللہ ( ﷺ ) کی ولادت ہوتی ہے اور ایسے ہی ماحول میں وہ بچپن ، نوجوانی ، جوانی سے آگے عمر گزارتے جارہے تھے لیکن اس پورے چالیس سالہ عرصہ میں آپ پر سماج کی کسی بُرائی کا اثر نہیں پڑا ۔ بکریوں کا چرانا اور تجارت میں مشغول رہے ، اس طرح وہ پاک و صاف اپنی زندگی گذار رہے تھے ۔ ۲۵ سال کی عمر میں آپؐ کا عقدنکاح حضرت خدیجۃ الکبریٰ سے ہوا ۔ (مرقع سیرت طیبہ مولف سید نصیرالدین احمد) اور ۳۵ سال کی عمر کے بعد راہِ خدا کی تلاش میں مکہ سے تین میل کے فاصلے پر ایک غار میں گوشہ نشینی اختیار کرتے ہوئے وارفتہ رہنے لگے اور آخرکار ۴۰ برس کی عمر مبارک میں نبوت سے سرفراز فرمائے گئے ۔ بعد ازاں آپ ؐ نے اپنے رشتہ داروں اور پھر مکہ والوں کے سامنے توحید یعنی قُوْلُوْا لَا إِلٰهَ إِلَّا اللہُ ( کہو نہیں ہے کوئی معبود سوائے اﷲ کے ) کا اعلان کیا اور پھر اس پیغام کے ذریعہ آہستہ آہستہ سماجی برائیوں کا بھی خاتمہ کیا ۔ اس دوران آپ اور آپ کے رشتہ داروں اور صحابہ پر ظلم کے پہاڑ توڑے گئے لیکن سبھی نے بہت صبر و ثبات کے ساتھ اسلام پر جمے رہے اور آپؐ کے احکام پر اپنے قلب و ذہن کے ساتھ سر کو جھکائے رکھا اور آپ کے حکم پر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے کے لئے تیار رہے اور پیش کئے ۔
اس طرح مکہ مکرمہ میں ۱۳ سالہ تبلیغی دور رہا ۔ اس کے بعد اﷲ تعالیٰ کے حکم پر آپؐ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو اپنے ساتھ لے کر مدینہ کو ہجرت کی اور پھر یہود و نصاریٰ کے ساتھ جو اطراف و اکناف میں رہتے تھے اُن سے معاہدات کئے ۔ آپ ﷺ تبلیغ اسلام کے فریضہ کو ادا کرتے رہے ۔ مشرکین مکہ اور دیگر قبائل کے ساتھ جنگوں کا سلسلہ شروع رہا کئی ایک غزوات اور سریئے ہوئے تمام حالات سے نبرد آزما رہتے ہوئے آپ ﷺ اور صحابہ کرام نے مدینہ منورہ میں اسلام کو غالب کیا اور پھر ۸ ھ میں آپؐ اپنے ۱۰ ہزار صحابہ کو ساتھ لے کر مکہ مکرمہ پر چڑھائی کی اور مکہ مکرمہ کو فتح کیا۔
فی زمانہ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ دین اسلام پر مکمل طورپر عمل پیرا ہوتے ہوئے دین اسلام کو اپنے گھروں میں رائج کرے اور آل و اولاد کی صحیح تربیت اور اپنے محلے اور اطراف و اکناف کے علاقوں میں اصلاح معاشرہ کی مہم کو تیز کریں اور صالح معاشرہ کی تشکیل میں اپنا اپنا اہم رول ادا کریں ۔ وما توفیقی الا باﷲ ۔ اﷲ تعالیٰ ہم کو صراط مستقیم پر قائم رکھے ۔ آمین
ان سب سے بڑھ کر علمائے کرام ، مشائخین عظام اور مذہبی اداروں کے ذمہ داروں اور سیاسی لیڈرس پر بہت بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور اس بات پر یقین رکھیں کہ بروز حشر سبھی ان حالات میں اپنی ذمہ داری کا اجر و ثواب حاصل کریں گے اور نہ کرنے پر عذاب کاسامنا اور اﷲ تعالیٰ کے غیض و غضب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس جوابدہی کے تصور کے ساتھ ہم کو اپنی زندگی گزارنی ہے ۔
میری زندگی کا مقصد تیرے دیں کی سرفرازی
میں اسی لئے مسلماں ، میں اسی لئے نمازی
وما توفیقی الا باﷲ ۔ اﷲ تعالیٰ ہم کو صراط مستقیم پر قائم رکھے ۔ آمین