نئی دہلی: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اترپردیش حکومت کے اس اقدام پر سخت تنقید کی جس میں اس نے مسلمانوں کے بعض رجسٹرڈ اداروں کے ذریعہ حلال سرٹیفکیٹ جاری کرنے کو غیر قانونی قرار دیا ہے بورڈ کے مطابق یہ فیصلہ مذہبی معاملات اور مذہبی آزادی میں مداخلت اور ملک کے مفاد کے منافی ہے۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے ایک پریس بیان میں کہا ہے کہ اسلام نے اپنے متبعین کے لئے کھانے پینے اور رہن سہن کے کچھ آداب اور ضوابط متعین کئے ہیں جس کی پابندی مسلمانوں کے لئے ضروری ہے۔ ایسا ہی معاملہ دیگر مذاہب کا بھی ہے۔ خورد و نوشت کے معاملے میں اسلام کے اصول بہت واضح ہیں۔ ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس بعض چیزیں مکروہات کے دائرے میں آتی ہیں تو بعض قطعی حرام ہیں جن سے بچنا مسلمانوں پر فرض ہے۔ جیسے شراب اور سور کا گوشت یا چربی وغیرہ۔ جس طرح مسلمانوں میں حلال اور حرام کی اصطلاح رائج ہے اسی طرح ہندؤں کے یہاں شْدھ اور اشْدھ کی اصطلاح ہے اور دیگر مذاہب میں دیگر اصطلاحات۔انہوں نے کہا کہ اسی طرح جو کمپنیاں اس میدان میں کام کررہی ہیں وہ سب حکومت کے ضوابط کے تحت رجسٹرڈ ہیں۔ ہندوستان میں حلال مصنوعات کی تصدیق کے لئے کوئی سرکاری ریگولیٹری ادارہ نہیں ہے بلکہ مختلف حلال سرٹیفیکیشن ایجنسیاں ہیں جو مصنوعات یا کھانے پینے کے اداروں کو حلال سرٹیفکیٹ فراہم کرتی ہیں۔ ان کی قانونی حیثیت مسلّمہ ہے صارفین کے درمیان، ان کے نام کی شناخت کے ساتھ ساتھ اسلامی ممالک میں بھی ریگولیٹرز کی جانب سے پہچان میں مضمر ہے۔ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس اب دنیا بھر میں بالخصوص مغربی ممالک میں حلال پرا ڈکٹس اور حلال سرٹیفکیٹ کا چلن بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ خود ہندوستان سے جو گوشت مشرق وسطی کے ممالک کو برآمد کیا جاتا ہے اس پر اس کی تصدیق کی جاتی ہے کہ یہ حلال طریقہ پر ذبح کیا ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حلال سرٹیفیکیشن پر پابندی لگاکر دراصل یوگی حکومت ہندوستانی مصنوعات کی مسلم و دیگر ممالک میں بر آمدات کو متاثر کرے گی اور اس سے صرف ان کمپنیوں کو ہی نقصان نہیں ہوگا بلکہ ہندوستان کی معیشت اور زرمبادلہ کا کاروبار بھی شدید طور متاثر ہوگا۔ مودی اور یوگی حکومتوں کو اپنے سیاسی فائدہ اور ہندو مسلم منافرت کے ایجنڈے سے اوپر اٹھ کر ملک کے مفاد اور مذہبی آزادی کے دستوری تقاضے کو ہی ترجیح دینی چاہئے۔ ڈاکٹر الیاس نے آگے کہا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ مطالبہ کرتا ہے کہ یوگی حکومت اپنے اس دستور مخالف اور ملک مخالف اقدام کو فی الفور واپس لے اور ہر بات کو ہندو مسلم منافرت اور سماجی تقسیم کا حصہ بنانے سے گریز کرے۔