حلقہ عادل آبادسے کانگریس کی آزاد امیدوار کو تائید

   

ضلع کانگریس قائد ساجد خاں کا میڈیا کے نمائندوں سے خطاب

عادل آباد۔ عادل آباد ضلع کانگریس پارٹی اور مسٹر ساجد خان نے قانون ساز کونسل حلقہ عادل آباد نمبرI کے آزاد امیدوار شریمتی سیندور پشپا رانی کی تائید و حمایت میں متحدہ ضلع عادل آباد سے تعلق رکھنے والے اراکین بلدیہ ، اراکین ضلع پریشد ، اراکین منڈل پرجا پریشد اپنے ووٹ کا استعمال کرتے ہوئے انہیں بھاری اکثریت سے منتخب کریں گے۔ موصوف اپنی قیامگاہ پر قبائیلی طبقہ سے تعلق رکھنے والے آزاد امیدوار شریمتی پشپا رانی کے ہمراہ میڈیا سے مخاطب تھے۔ اس موقع پر انہوں نے ٹی آر ایس قائدین ،اراکین پر الزام عائد کیا کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کے ذریعہ روپیوں کا بے جا استعمال کرتے ہوئے قانون ساز کونسل کی رکنیت کیلئے پرچہ نامزدگیاں داخل کرنے والے افراد کو انتخابی میدان میں حصہ لینے سے دستبردار کرایا۔ شریمتی پشپا رانی پر بھی کافی دباؤ بنائے رکھا تھا اور ایک فرضی فرد کو ضلع ریٹرننگ آفیسر کے پاس روانہ کیا تھا جو ناکام ثابت ہوا۔ ٹی آر ایس قائدین کی اس حرکت پر قبائیلی طبقہ کی آزاد امیدوار نے دفتر ضلع کلکٹریٹ اور ون ٹاون کے روبرو کل بڑے پیمانے پر احتجاج بھی منظم کیا ۔ اس احتجا ج کی تائید کانگریس ، بی جے پی، توڈم ریبا کے بے شماراراکین و قائدین نے بھی کی تھی۔ بعد ازاں لمحہ آخر میں ضلع ریٹرننگ آفیسر نے اپنے جاری کردہ اعلامیہ میں آزاد امیدوار کے طور پر شریمتی سیندور پشپا رانی کو انتخابی میدان میں برقراری کی اطلاع دی۔ مسٹر ساجد خان نے میڈیا سے خطاب کرنے سے قبل ضلع عادل آباد کے تمام کانگریس ارکین سے مشاورت کی ۔ بعد ازاں شریمتی پشپا رانی کی تائید و حمایت کا اعلان کیا۔ واضح رہے کہ ٹی آر ایس قائدین اپنے امیدوار کو بلامقابلہ منتخب کرانے کی کوشش میں تھے لیکن انہیں ایک قبائیلی طبقہ کی خاتون کے سامنے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ آئندہ ماہ کی 10 تاریخ کو منعقد ہونے والے انتخابات کی ایم ایل سی کی رائے دہی میں ٹی آر ایس امیدوار کا سامنا ایک قبائیلی قاتون سے ہورہا ہے۔24 افراد کے منجملہ 22 افراد نے انتخابات میں حصہ لینے سے گریز کرتے ہوئے دستبرداری حاصل کی۔