واشنگٹن: امریکی محکمۂ خارجہ نے کہا کہ وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے منگل کے روز مصر کے وزیرِ خارجہ سے بات کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنانے پر زور دیا کہ حماس دوبارہ کبھی غزہ پر حکومت نہ کر سکے ۔ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مصر اور اردن کو مزید فلسطینیوں کو اپنے ملک لے جانے کی تجویز پیش کی تھی جس کے بعد دونوں وزراء خارجہ کی فون کال پر بات ہوئی۔ٹرمپ نے ہفتے کے روز غزہ کو’’مکمل خالی ‘‘کرنے کا ایک منصوبہ پیش کیا تھا۔ یہ تجویز فلسطینیوں کے اس دیرینہ خوف کی بازگشت ہے کہ انہیں مستقلاً اپنے گھروں کو چھوڑنا پڑے گا ۔روبیو اور مصری وزیرِ خارجہ بدر عبد العاطی کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد امریکی محکمۂ خارجہ کے جاری کردہ بیان میں ٹرمپ کی تجویز کا ذکر نہیں کیا گیا۔اردن اور مصر کا فلسطینیوں کو اپنے ملک لے جانا ایک عارضی حل ہے یا طویل مدتی؟ اس سوال کے جواب میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ کوئی بھی ہو سکتا ہے ۔ محکمۂ خارجہ نے منگل کی فون کال کے بعد کہا کہ انہوں (روبیو) نے حماس سے جواب طلبی کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ سیکریٹری نے تنازعہ ختم ہونے کے بعد کی منصوبہ بندی کو آگے بڑھانے کے لیے قریبی تعاون کی اہمیت کا اعادہ کیا تاکہ یہ بات یقینی ہو کہ حماس کبھی غزہ پر حکومت نہ کر سکے اور نہ ہی اسرائیل کے لیے دوبارہ خطرہ بن سکے ۔روبیو نے ایک روز قبل اردن کے شاہ عبداللہ کو فون کیا تھا اور اس کال کے بعد بھی امریکی بیان میں فلسطینیوں کی نقلِ مکانی پر ٹرمپ کے ریمارکس کا ذکر نہیں کیا گیا تھا۔