حکومت اور انتظامیہ کے رویہ پر مسلمانوں میں شدید بے چینی

   

ضلع کاماریڈی میں تاریخی مسجد کی باؤنڈری وال کے انہدام کے خلاف عدم کارروائی کی مذمت ، عہدیداروں سے نمائندگیاں

کاماریڈی :8؍ فروری ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مستقر موتہ ضلع کاماریڈی کی چار سو سالہ قدیم عالمگیر مسجد کی باؤنڈری وال کو مخصوص فرقہ کی جانب سے دن دھاڑے بلڈوزر سے منہدم کردیا گیا۔ اس خصوص میں علاقہ کے مسلمانوں نے جمعیت علماء ضلع کاماریڈی کے ذمہ داران حافظ فہیم صدر و عظمت علی جنرل سیکریٹری ضلع جمعیت سے رابطہ کیا۔ ان حضرات کے کہنے پر فی الفور پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی، لیکن اس کے باوجود خاطیوں کی گرفتاری اب تک عمل میں نہیں آئی۔ حالانکہ مسجد کی باؤنڈری وال گرانے کے ویڈیوز و فوٹوز موجود ہیں۔ ان تمام کے باوجود خاطیوں کیخلاف کسی بھی قسم کی کارروائی نہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں میں بڑی شدید بے چینی دیکھی جارہی ہے۔اس خصوص میں جمعیت علماء کاماریڈی کے جنرل سیکریٹری عظمت علی نے مفتی محمود زبیر قاسمی سے رابطہ کرتے ہوئے ایس پی سے ملاقات کا فیصلہ کیا اور مفتی زبیر نے ریاستی ہوم منسٹر کو فون کیا اور فوٹوز اور ویڈیوز انہیں روانہ کیں۔ اس خصوص میں جمعیت علماء تلنگانہ و آندھرا پردیش کے صدر مولانا مفتی غیاث الدین رحمانی نے پولیس اور حکومت کے رویہ پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کلکٹریٹ مسجدنظام آباد کا مسئلہ، سیکریٹریٹ مساجد کا مسئلہ، عنبر پیٹ مسجد کا مسئلہ اور اس وقت کاماریڈی کی موضع موتہ کی مسجد کا مسئلہ اس سلسلے میں حکومت اور خاص طور پر پولیس انتظامیہ کا جو رویہ ہے وہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ مسلمان صبر کے ساتھ قانون کا سہارا لے کر اس معاملے میں پولیس اور حکومت سے تعاون کی امید رکھتے ہیں، لیکن حکومت اور انتظامیہ کا رویہ اس خصوص میں مسلمانوں کو بہلانے کا رہاہے۔انھوں نے ہوم منسٹر محمود علی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فی الفور اس مسئلہ کا نوٹ لیں اور خاطیوں کی گرفتاری کو یقینی بنائیں تاکہ علاقہ میں فرقہ پرست اور نفرت پھیلانے والے عناصر بدامنی نہ پھیلا سکیں اور مسلمانوں کا انتظامیہ پر اعتماد بحال ہو۔ کاماریڈی کے غم وغصہ کی لہر کاماریڈی سے تعلق رکھنے والے مذہبی وسیاسی قائدین وملی ہمدردی رکھنے والوں نے ضلع ایس پی کاماریڈی اور ودیگر عہدے داران سے ملاقات کرتے ہوے جلد از جلد خاطیوں کو گرفتار کرنے اور مسجد کی باؤنڈری وال تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا۔