تہران ۔ 14 جولائی (ایجنسیز) امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف 28 فروری کو شروع کی گئی مشترکہ جنگ کا ایک اہم ہدف ایرانی حکومت کی تبدیلی اور موجودہ قیادت کے قتل کے بعد اپنے من پسند افراد کو آگے لانا تھا، اس سلسلے میں اسرائیل نے سابق صدر احمدی نژاد کو آگے لانے کی بڑی کوشش کی مگر ناکامی ہوگئی۔ اسرائیلی موساد کے سابق چیف نے احمدی نژاد سے جنگ سے کچھ روز قبل ملاقات بھی کی تھی۔ بعد ازاں دوران جنگ احمدی نژاد کی ایک موقع پر جان لینے کا ڈرامہ کیا گیا مگر حقیقتاً ان کی جان بچائی گئی۔ یہ انکشافات نیو یارک ٹائمز نے اپنی ایک رپورٹ میں کیے ہیں۔رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف جنگ میں امریکی شراکت دار اسرائیل نے ایران میں حکومت تبدیلی کیلئے احمدی نژاد کو تیار کرنے کی کوششیں کی تھیِ۔ احمدی نژاد کئی سال قبل ایرانی صدارت پر فائز رہ چکے ہیں۔ انہیں آگے لانے کیلئے ایک موزونیت یہ بھی تھی کہ اسرائیل نے ان پر کئی سال تک کام کیا تھا۔ نیو یارک ٹائمز نے اپنی یہ رپورٹ امریکہ اور اسرائیل کے ان ذرائع کی مدد سے مرتب کی ہے جو حکومت تبدیلی کے آپریشن کے قریب تر تھے۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اسرائیل کی انٹیلی جنس ایجنسی موساد نے احمدی نژاد کے ساتھ رابطے استوار کر رکھے تھے۔ ان میں بڈاپسٹ ہنگری میں احمدی نژاد کی 2024 اور 2025 میں ہونے والے دورے کی ملاقاتیں بھی کارآمد سمجھی گئی تھیں۔
یہ ملاقاتیں اسرائیلی ایجنٹوں نے تعلیمی کانفرنسوں کی آڑ میں کی تھیں۔یاد رہے دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے حکومتی عہدے داروں ، اپوزیشن رہنماؤں، ماہرین اورسماجی و مذہبی شخصیات کو تعلیمی ، ثقافتی اور مذہبی ہم آہنگی کی کانفرنسوں میں یورپ اور امریکہ میں باہم مل بیٹھے کا موقع ملتا رہتا ہے۔ اسی طرح کی کانفرنسیں بعض دیگر مقاصد کی تکمیل کا بھی ذریعہ بن جاتی ہیں۔ نیو یارک ٹائمز نے بھی ایسی ہی تعلیمی کانفرنسوں کے نام پر احمدی نژاد کی شرکت کے مواقع پر اسرائیلی ایجنٹوں کے استعمال کرنے کا ذکر کیا ہے۔اخبار کے مطابق ہنگری میں موساد کے اس وقت کے سربراہ ڈیوڈ بارنا نے ان تعلیمی موضوعات پر ہونے والی کانفرنس کے دوران ملاقات کی۔ ان کے علاوہ بھی لوگ ملے، یہ ملاقاتیں ہنگری کے دارالحکومت بڈاپسٹ میں ہوئی تھیں۔ یہ کوششیں فروری کے اواخر تک کافی آگے بڑھ چکی تھیں۔ خیال رہے امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کی راہ 28 فروری کو ہموار تھی۔ اور احمدی نژاد ایران میں حکومت تبدیلی کے بڑے آپریشن میں استعمال کرنے کیلئے اسرائیلی کوششوں میں اہم ہو چکے تھے۔ لیکن حکومت تبدیلی کا یہ منصوبہ ناکام ہو گیا۔