حکومت خوفزدہ ‘دہلی کو پولیس چھاؤنی میں تبدیل کردیا‘ غیر معلنہ ایمرجنسی جیسی پابندیاں عائد

,

   

٭ 57 میٹرو اسٹیشن بند ‘ کئی ٹرینیں معطل ‘ 33 ہزار پولیس تعینات‘ جگہ جگہ سی سی کیمرے
٭ ایک مچھر کو مارنے ہتھو ڑے کا استعمال نہیں کیا جاسکتا ۔ تحدیدات پر سپریم کورٹ کا تبصرہ
٭ جنتر منتر کے اطراف چارکیلومیٹر احاطہ میں 24 گھنٹے کیلئے انٹرنیٹ خدمات بند
٭ سارے شہر میں کئی مقامات پر رکاوٹیں ‘ جنتر منتر تک کے تمام راستے بند کردئے گئے
٭ اے آئی ایس ایف کی صدر نیہا بورا اور سی جے پی کے ابھیجیت ڈپکے کی سخت تنقید

نئی دہلی 9 اکٹوبر ( ایجنسیز ) دارالحکومت دہلی کو ہفتہ 10 اکٹوبر سے شروع ہونے والے سی جے پی کے احتجاج سے قبل عملاً پولیس چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا ہے اور ایسے سکیوریٹی انتظامات کئے جا رہے ہیں جن کی ماضی میں شائد ہی کوئی نظیر مل پائے ۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ مرکز کی نریندر مودی حکومت سی جے پی ‘ دیگر طلباء تنظیموں ‘ سماجی جہد کاروں ‘ سیول سوسائیٹی کارکنوں ‘ وکلاء اور دیگر کے احتجاج سے خوفز دہ ہوگئی ہے اور وہ کسی بھی قیمت پر اس احتجاج کو روکنا یا ناکام بنانا چاہتی ہے ۔ سارے شہر دہلی کو پولیس چھاؤنی اور فصیل بند قلعہ میں تبدیل کردیا گیا ہے اور ان انتظامات کے نتیجہ میں خود دہلی کے مکینوں کی نقل و حرکت مشکل ہوگئی ہے اور ایک سے دوسرے مقام تک کا سفر تقریباً ناممکن ہوگیا ہے ۔ سی جے پی احتجاج کو پیش نظر رکھتے ہوئے حکومت کی جانب سے میٹرو ٹرین اسٹیشنوں کو بند کردیا گیا ہے ۔ دہلی کے تمام 57 میٹرو اسٹیشنوں کو بند کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے ۔ اسی طرح ملک کے مختلف شہروں سے دہلی پہونچنے والی ٹرینوں کو منسوخ یا معطل کردیا گیا ہے ۔ ہفتہ کو 10 گھنٹوں کیلئے دہلی کے نئی دہلی اور پرانی دہلی ریلوے اسٹیشنوں کو بند رکھنے کا بھی اعلان کردیا گیا ہے ۔ کہا جا رہا ہیکہ دہلی پہونچنے والے مسافرین پر خصوصی نظر رکھی جا رہی ہے ۔ ان کی آمد و رفت کو بھی ممکنہ حد تک روکنے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے دہلی میں تقریبا 33 ہزار پولیس اہلکاروں کو متعین کردیا گیا ہے ۔ ان میں سی آئی ایس ایف ‘ آر اے ایف ‘ بی ایس ایف ‘ سی آر پی ایف اور دہلی پولیس کے اہلکار اور اعلیٰ عہدیدار بھی شامل ہیں ۔ ہر عہدیدار کو الگ الگ ذمہ داریاں تفویض کئے جانے کی بھی اطلاع ہے ۔ شہر میں بے شمار مقامات پر رکاوٹیں کھڑی کردی گئی ہیں۔ جنتر منتر تک آنے والے تقریباً تمام راستوں کو عملاً بند کردیا گیا ہے اور وہاں کسی کو آنے جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے ۔ دہلی میٹرو ریل کارپوریشن کی جانب سے میٹرو ٹرینوں کو 9 اکٹوبر کی رات 9 بجے ہی سے بند کردینے کا اعلان کردیا گیا ہے ۔ دیگر حمل و نقل کے ذرائع بھی عملا مسدود کئے جا رہے ہیں۔ حکومت کی جانب سے عائد کی جانے والی ان تحدیدات کو آج سپریم کورٹ کے علم میں بھی لایا گیا ۔ سینئر وکیل کپل سبل نے عدالت میں ساری تفصیلات پیش کرتے ہوئے عدالت سے مداخلت کی اپیل کی ہے ۔ ساری تفصیلات سے آگہی کے بعد سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت اور دہلی پولیس کو ہدایت دی کہ وہ میٹرو اور دیگر ریلوے خدمات پر مکمل امتناع عائد کرنے سے گریز کرے ۔ عدالت نے یہ واضح کیا ہے کہ سکیوریٹی اقدامات کے ذریعہ مکمل عوامی حمل ون قل پر پابندی عائد نہیں کی جاسکتی اور لاکھوں افراد کو مشکلات اور پریشانیوں کا شکار نہیں کیا جاسکتا ۔سپریم کورٹ نے ریمارک کیا کہ ایک مچھر کو مارنے ہتھوڑے کا استعمال نہیں کیا جاسکتا ۔ چیف جسٹس آف انڈیا جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیا باگچی و جسٹس وی موہنا پر مشتمل ایک بنچ نے کہا کہ حکام کی جانب سے ٹریفک کی آمد و رفت کو باقاعدہ بنایا جاسکتا ہے اور غیر مجاز اجتماع کو روکا جاسکتا ہے تاہم سارے سسٹم کو ٹھپ نہیں کیا جاسکتا ۔ عدالت نے کہا کہ عوامی تنصیبات تک رسائی اور آزاد سفر کے دہلی کے عوام کے حق کا تحفظ کیا جانا چاہئے ۔ عدالت نے کہا کہ حکومت ہر شئے کو روک نہیں سکتی ۔ کسی چیز کو روکنا یا کسی کو باقاعدہ بنانا دو الگ الگ باتیں ہیں۔ کسی کو باقاعدہ بنایا جاسکتا ہے تاہم سب کچھ روک دیا جائے ایسا نہیں کیا جاسکتا ۔ آل انڈیا اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن کی صدر نیہا بورا نے حکومت کی جانب سے عائد تحدیدات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت خوف کا شکار ہوگئی ہے اسی وجہ سے احتجاج کو کچلنا چاہتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جہدکاروں اور طلباء قائدین کو بھی کسی بھی وقت گرفتار کیا جاسکتا ہے اور پولیس ان کی تلاش بھی شروع کرچکی ہے ۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ طلباء قائدین اور دیگر ذمہ داروں کی گرفتاری کے باوجود احتجاج کا آغاز کریں اور ہر کوئی احتجاج کی ذمہ داری سنبھالنے آگے آجائے ۔ اسی طرح سی جے پی کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے بھی حکومت کی جانب سے تحدیدات اور پابندیوں پر سخت تنقید کی ہے اور کہا کہ حکومت گیانیش کمار کو بچانے کیلئے ہر طرح کا ہتھکنڈہ اختیار کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت چاہے کتنی ہی کوشش کرلے احتجاج ضرور ہوگا اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو بہر صورت اپنا استعفی پیش کرنا ہوگا ۔ مختلف جہد کاروں نے بھی حکومت کی جانب سے پابندیوں اور تحدیدات کی مذمت کی ہے ۔ اس دوران کناٹ پیلس علاقہ میں تاجروں کی انجمن نے دوکانداروں سے کہا کہ وہ کل دوکانات بند رکھیں ۔ اس کے علاوہ ملک کے کئی شہروں میں پولیس کو چوکسی کی ہدایت دی گئی ہے اور دہلی آنے والی ٹرینوں کے مسافرین پر نظر رکھی جا رہی ہے ۔ دہلی کے قریب اہم اسٹینشوں پر طلباء تنظیموں سے تعلق رکھنے والے مسافرین کو روکے جانے کی بھی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ دہلی پولیس نے جنتر منترک ے اطراف چار کیلومیٹر کے احاطہ میں انٹرنیٹ خدمات بھی 24 گھنٹے کیلئے بند کردینے کا اعلان کیا گیا ہے ۔