حکومت سے مذاکرات کامیاب ۔ آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال ملتوی ۔ جے اے سی کا اعلان

   

مطالبات کی یکسوئی کیلئے سنجیدہ اقدامات کرنے وزیر ٹرانسپورٹ پونم پربھاکر کا تیقن ۔ حکومت نے راحت کی سانس لی

حیدرآباد 6 مئی (سیاست نیوز) حکومت اور آر ٹی سی ملازمین جے اے سی کے مذاکرات کے بعد 6مئی کی رات سے شروع ہونے والی ہڑتال کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیاگیا ہے ۔ آر ٹی سی ملازمین کی یونینوں پر مشتمل جے اے سی قائدین اور وزیر ٹرانسپورٹ کے درمیان مذاکرات میں کامیابی کے بعد آر ٹی سی ملازمین نے ہڑتال کو ملتوی کرنے کا اعلان کیا ۔ جے اے سی نے اپنے مطالبات پر حکومت سے بات چیت کے آغاز اور اقدامات کے تیقن کے بعد ہڑتال ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ملازمین نے 18 مطالبات پر مشتمل یادداشت آر ٹی سی انتظامیہ کے حوالہ کرکے 6 اور7مئی کی درمیانی شب سے ہڑتال کے آغاز کا اعلان کیاتھا اور کل ملازمین جے اے سی اور حکومت کے مابین بات چیت ناکام ہونے کے سبب ہڑتال کی توقع کی جا رہی تھی ۔ حکومت سے ملازمین کے نمائندوں کی بات چیت کے دوران آر ٹی سی انتظامیہ نے ملازمین کے نام کھلا خط جاری کرکے ہڑتال سے باز رہنے کی اپیل کی اور واقف کروایا کہ ESMA ایکٹ کے تحت آرٹی سی میں ہڑتال پر امتناع عائد ہے اور اگر اس کے باوجود ملازمین ہڑتال میں حصہ لیتے ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی ۔ مکتوب میں کہاگیا کہ ہڑتال آر ٹی سی کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے اسی لئے آرٹی سی کو کسی بھی معاشی نقصان سے محفوظ رہنے اقدامات کئے جانے چاہئے تاکہ معاشی بدحالی کا شکار آرٹی سی جو کہ اب بہتر ہورہی ہے اسے مزید نقصان سے محفوظ رکھا جاسکے۔ ریاستی وزیر پونم پربھاکر نے جے اے سی سے مذاکرات میں واقف کروایا ہے کہ حکومت نے تلنگانہ کے تمام ملازمین کے مسائل کی یکسوئی کے اقدامات کے طور پر 3 آئی اے ایس عہدیداروںپر مشتمل کمیٹی تشکیل دی ہے جو کہ ملازمین کی تنظیموں سے مذاکرات کرکے رپورٹ حکومت کو پیش کی جائے گی۔ آر ٹی سی تنظیم کے نمائندوں سے نے بتایا کہ حکومت کے ساتھ مذاکرات کے دوران بیشتر تمام مطالبات پر بات کی گئی اور حکومت سے مثبت ردعمل کے بعد ملازمین نے اپنی ہڑتال کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ۔ یونین ذمہ داروں نے بتایا کہ حکومت سے مذاکرات میں پونم پربھاکر‘ رکن اسمبلی رام موہن ریڈی ‘ رکن کونسل پروفیسر کودنڈا رام‘ کے علاوہ سی پی آئی کے رکن اسمبلی سامبا سیوا راؤ موجودتھے ۔ ان قائدین نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران آرٹی سی یونینوں پر عائد تحدیدات کو ختم کرنے متوجہ کروانے کے علاوہ ملازمین کے مسائل کو حل کرنے کے متعلق مذاکرات کئے گئے ۔ آر ٹی سی نمائندوں نے ان کے مطالبات پر سنجیدہ غور کے تیقن کے بعد ہڑتال سے ملتوی کرنے اعلان کیا اور بتایا کہ حکومت سے مذاکرات میں آرٹی سی یونینوں کے انتخابات مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات‘ آر ٹی سی ملازمین کی خدمات کو حکومت میں ضم کرنے ‘ 2017 میں سبکدوش ہونے والوں کو پے رویژن کے مطابق بقایا جات کی اجرائی ‘ 2019 میں آرٹی سی ملازمین کی ہڑتال کے دوران درج مقدمات سے دستبرداری کے علاوہ دیگر امور پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے آرٹی سی ملازمین کو ہڑتال سے دور رہنے کا انتباہ دیا اور ان کے مطالبات کا جائزہ لینے اور ان پر سنجیدگی سے غور کا تیقن دیا اور کہا کہ حکومت آر ٹی سی ملازمین کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے سنجیدہ ہے۔ پونم پربھاکر نے ملازمین کے وفد کو تیقن دیا کہ حکومت سے ملازمین کے مسائل کے حل کو یقینی بنایا جائے گا اور ان کے مطالبات کو معینہ مدت میںحل کرنے اقدامات کئے جائیں گے۔آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال ملتوی ہونے کے ساتھ حکومت نے راحت کی سانس لی کیونکہ ہڑتال کے آغاز کے بعد تلنگانہ کے دیگر محکمہ جات کے ملازمین سے بھی احتجاج کرنے کا اعلان کیا گیا تھا اور اب جبکہ آرٹی سی ملازمین سے بات چیت کامیاب ہوئی تو کہا جار ہاہے کہ حکومت سے دیگر محکمہ جات کے ملازمین کے احتجاج کے آغاز کو روکنے مذاکرات شروع کئے جاسکتے ہیں۔3