فاکسکان کمپنی وفد کی چیف منسٹر ریونت ریڈی اور وزیر آئی ٹی سے ملاقات ۔ مختلف امور پر تبادلہ خیال
حیدرآباد۔26۔ڈسمبر(سیاست نیوز) تلنگانہ میں صنعتی پالیسی کو مزید بہتر بنانے حکومت سنجیدہ اقدامات کرے گی ۔ تلنگانہ میں فاکسکان نے ایک لاکھ ملازمتوں کا تیقن دیا ہے اور پہلے مرحلہ میں 25ہزار ملازمتوں کی فراہمی عمل میں لائی جائیگی۔ چیف منسٹر اے ریونت ریڈی کے علاوہ وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی ڈی سریدھر بابو سے فاکسکان کمپنی نمائندوں نے آج ملاقات کرکے ریاست میں جاری پراجکٹ کی تفصیلات سے واقف کروایا۔ انتخابات سے قبل سابق وزیر کے ٹی راما راؤ نے ڈپٹی چیف منسٹر کرناٹک ڈی کے شیو کمار کے مکتوب کا حوالہ دے کر ایک ٹوئیٹ کیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ تلنگانہ میں کانگریس کو اقتدار حاصل ہونے پر فاکسکان کمپنی کو بنگلورو منتقل کردیا جائے گا۔ ان تمام خدشات کو دور کرتے ہوئے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے آج فاکسکان نمائندوں سے ملاقات میں انہیں تیقن دیا کہ ان کے ادارہ کیلئے حکومت سے ممکنہ تعاون کیا جائے گا اور جلد اجازت ناموں کی اجرائی کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں گے۔ چیف منسٹر اور وزیر آئی ٹی سے کمپنی وفد کی ملاقات میں چیف سیکریٹری محترمہ شانتی کماری کے علاوہ پرنسپل سیکریٹری انفارمیشن ٹکنالوجی و دیگر عہدیدار موجود تھے ۔ چیف منسٹر نے کمپنی نمائندوں سے کہا کہ حکومت صنعتی اداروں کی ترقی اور انہیں درکار اجازت ناموں کی جلد اجرائی کا میکانزم تیار کرے گی اور اس میکانزم پر مؤثر عمل آوری کے ذریعہ تلنگانہ میں سرمایہ کاروں کو راغب کرنے اقدامات کئے جائیں گے۔ انہو ںنے کہا کہ حکومت سے وہ تمام اقدامات کئے جائیں گے جس کے ذریعہ ریاست کی صنعتی میدان میں ترقی ہو اور ملک بھر میں ریاست کو صنعتی ترقی کے معاملہ میں سرفہرست مقام حاصل ہوسکے۔ چیف منسٹر نے بتایا کہ حکومت سے سرمایہ کاروں کو سہولتوں کی فراہمی کیلئے عام شہریوں کے مفادات کو نقصان پہنچانے کی پالیسی اختیار نہیں کی جائے گی بلکہ حکومت تمام طبقات کے مفادات کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے صنعتی ترقی کی پالیسی پر عمل کرے گی۔ چیف منسٹر نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ فاکسکان کے تعمیری و ترقیاتی کاموں کے اجازت ناموں کی اجرائی میں کوتاہی نہ کریں اور پراجکٹ میں پیشرفت سے انہیں اور متعلقہ وزیر کو واقف کرواتے رہیں۔چیف منسٹر اور کمپنی کے نمائندوں کی ملاقات میں کمپنی ذمہ داروں نے بتایا کہ تلنگانہ میں فاکسکان مئی 2024 تک مکمل کارکرد کردیئے جانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں جہاں ائیر پاڈس کی تیاری عمل میں لائی جائے گی۔(3)