حکومت مندر و مسجد کا پردہ ڈال دیتی ہے

   

چوکیدار چور، ساتھی ڈاکو … ووٹ اور سیٹ کے بعد مندر چوری
ایس آئی آر + ووٹ چوری = تلنگانہ نشانہ پر

رشیدالدین
’’چوکیدار چور اور ان کی ٹیم ڈکیت‘‘ راہول گاندھی نے جب چوکیدار چور ہے کہا تھا ، اس وقت بی جے پی اور مودی کے اندھ بھکتوں نے ہنگامہ کھڑا کردیا اور کانگریس قائد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ۔ دوسری طرف عوام کو اندازہ تھا کہ راہول گاندھی نے یونہی یہ جملہ ادا نہیں کیا بلکہ کچھ تو سچائی ہوگی۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مودی حکومت کے اسکامس منظر عام پر آنے لگے اور چوری آگے بڑھ کر ڈکیتی میں تبدیل ہوگئی۔ مدھیہ پردیش کے چیف منسٹر موہن یادو کا 168 کروڑ ایکر اراضی کا اسکام ابھی میڈیا کی سرخیوں میں تھا کہ ایودھیا کی رام مندر میں ڈکیتی کا معاملہ منظر عام پر آیا۔ یہ ڈکیتی کسی پیشہ ور ڈاکوؤں کی ٹیم نے نہیں کی بلکہ بی جے پی کی سرپرستی میں قائم کردہ مندر ٹرسٹ میں شامل افراد کی کارستانی ہے۔ ووٹ چوری ، سیٹ چوری اور پارٹی چوری کے بعد بی جے پی والوں نے رام مندر کو بھی نہیں چھوڑا اور 200 کروڑ کی ڈکیتی کا انکشاف ہوا ہے۔ نریندر مودی حکومت نے رام مندر کے حق میں سپریم کورٹ سے فیصلہ حاصل کرنے اور عالیشان مندر کی تعمیر میں جس عجلت اور تیزی کا مظاہرہ کیا ، اس کے درپردہ مقاصد مندر چوری کے بعد بے نقاب ہوگئے۔ مندر کو آنے والے شردھالوؤں نے جو نذرانے رقم ، سونے چاندی ، زیورات ، جواہرات اور قیمتی تحائف کی شکل میں پیش کئے تھے، ان کی لوٹ مار کی گئی جس کا کوئی حساب نہیں ہے۔ دراصل یہ لوٹ جنوری 2024 سے جاری تھی جب مندر کا افتتاح ہوا لیکن کسی نے آواز اٹھانے کی ہمت نہیں کی۔ شائد اس لئے حکومت کے سیاسی آقاؤں کو اس کا علم تھا۔ اترپردیش اور وہ بھی رام مندر میں چوری ہو اور مودی ، امیت شاہ اور یوگی ادتیہ ناتھ واقف نہ ہوں، ایسا ممکن نہیں ہے۔ مذہب کے ٹھیکیداروں اور رام بھکتی کا دعویٰ کرنے والوں نے رام کا نام لے کر ان کی مندر کو بھی نہیں چھوڑا۔ کسی نے کیا خوب کہا کہ محمود غزنوی پر سومناتھ مندر کو لوٹنے کا الزام ہے لیکن بی جے پی کے رام بھکتوں نے خود رام کی مندر کو لوٹ لیا۔ مندر کی لوٹ سے ناراض بھکتوں نے یہاں تک کہا کہ مندر کے لٹیرے راون سے بھی بدتر ہے کیونکہ راون نے بھی رام کے کسی خزانے کو نہیں لوٹا تھا۔ گزشتہ دو برسوں سے جاری اس لوٹ کو یوگی یا مودی حکومت یا پھر کسی بی جے پی لیڈر اور سرکاری ادارے نے بے نقاب نہیں کیا بلکہ سماج وادی پارٹی لیڈر اکھلیش یادو نے 7 جون کو بھکتوں کے ڈونیشن میں چوری کا انکشاف کیا جس کے بعد مندر ٹرسٹ اور یوگی حکومت کو چوری کا اعتراف کرنا پڑا۔ اگر اکھلیش یادو ٹوئیٹ نہ کرتے تو لوٹ مار کا سلسلہ جاری رہتا۔ ابتدائی جانچ میں 200 کروڑ کی لوٹ مار کا انکشاف ہواہے جن میں نقد رقم ، سونے چاندی کے زیورات ، جواہرات ، سونے چاندی کی اینٹیں اور قیمتی تحائف شامل ہیں۔ مندر کو کئی ہزار کروڑ کے نذرانے پیش کئے گئے جن کا کوئی حساب نہیں ہے ۔ ایک اندازہ کے مطابق 16 کروڑ بھکتوں نے مندر کے درشن کئے ، اگر ان میں سے ہر ایک نے 100 روپئے کا دان کیا تو مجموعی رقم 1600 کروڑ ہوجائے گی ۔ عوام کے عطیات کی چوری اب لوٹ اور ڈکیتی میں بدل گئی کیونکہ ایک منظم انداز میں یہ سلسلہ جاری تھا جسے اکھلیش یادو نے بے نقاب کردیا۔ خود کو ہندو دھرم کے ڈھکیدار اور محافظ ہی اگر مندروں کو لوٹنے لگ جائیں تو عام آدمی کس پر بھروسہ کرے گا۔ مندر ٹرسٹ نے ابتداء میں کسی بھی چوری سے انکار کیا لیکن ٹرسٹ کے صدرنشین چمپت رائے کی جانب سے اراضیات کی خریدی کے معاملات کا خلاصہ ہوا تو یوگی حکومت خواب غفلت سے بیدار ہوئی۔ یوگی کے طرز حکمرانی پر نظر رکھنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ یوگی ادتیہ ناتھ کی ناک کے نیچے چوری ہوتی رہے اور وہ واقف نہ ہو ، ایسا ممکن نہیں ہے ۔ یوگی ادتیہ ناتھ نے معاملہ کو دبانے کیلئے سیاسی پارٹیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اس بارے میں بیان بازی نہ کریں بلکہ حکومت کی کارروائی کا انتظار کریں۔ کیونکہ چوری معاملہ سے ایودھیا کی بدنامی ہوگی۔ کیا اکھلیش یادو نے چوری کا خلاصہ کرتے ہوئے کوئی جرم کیا ہے؟ چوری کے بارے میں کہنے سے ایودھیا کی توہین کیسے ہوگی؟ رام اور ایودھیا کی توہین تو 6 ڈسمبر 1992 کو ہوئی تھی جب رام کا نام لے کر بابری مسجد کو شہید کیا گیا۔ رام اور ایودھیا کی توہین اس وقت بھی ہوئی جب سپریم کورٹ کے ذریعہ مسجد کی اراضی مندر کے لئے حاصل کی گئی۔ توہین تو اس وقت بھی ہوئی جب سجدہ گاہ کو بتکدہ میں تبدیل کیا گیا۔ اس قدر بدنامی کے بعد رہی سہی کسر بھی بھکتوں کے ڈونیشن کو لوٹ کر پوری کردی گئی۔ اندیشہ ہے کہ 200 کروڑ کی لوٹ مار میں اہم قائدین ملوث ہیں۔ رام مندر میں لوٹ پر نریندر مودی ، امیت شاہ اور موہن بھاگوت کی خاموشی کئی سوال کھڑے کرتی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس معاملہ میں سب کی مرضی شامل تھی ؟ بی جے پی اور سنگھ پریوار میں سناٹا طاری ہے۔ رام مندر چوری معاملہ نے دنیا بھر میں رام بھکتوں کی عقیدت کا پول کھول دیا ہے۔ ملک کو لوٹنے والوں نے اپنے بھگوان کو نہیں چھوڑا۔ رام مندر کا یہ اسکام ملک کے دیگر مندروں کے فنڈس میں خرد برد کا اشارہ دیتا ہے۔ نریندر مودی جو خود کو ملک کا چوکیدار کہتے ہیں ، رام مندر کی حفاظت نہ کرسکے۔ مندر چوری پر ان کی خاموشی کو بہت پہلے ہی راہول گاندھی نے محسوس کرتے ہوئے کہا تھا کہ چوکیدار چور ہے۔ مودی ۔امیت شاہ اگر لاعلم تھے تو پھر مندر ٹرسٹ کو برخواست کیوں نہیں کیا گیا ۔ دال میں کچھ کالا ضرور ہے یا پھر پوری دال ہی کالی ہے ، اس کا خلاصہ جلد ہوجائے گا۔
مدھیہ پردیش کے چیف منسٹر ڈاکٹر موہن یادو ان دنوں اراضی اسکام معاملہ میں سرخیوں میں ہیں۔ انہوں نے اپنے اور اپنے گھر والوں کے نام پر 168 ایکر اراضی ایسے مقامات پر خریدی ہے جہاں حکومت کی جانب سے ترقیاتی کاموں کا آغاز ہوگا۔ موہن یادو جو بنیادی طور پر رئیل اسٹیٹ بزنس مین ہیں ، انہوں نے چیف منسٹر کی کرسی کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے ہائی وے کے اطراف اراضیات خرید کر اپنے کاروبار کو چمکانے کی کوشش کی ہے۔ موہن یادو کے اسکام پر بی جے پی خاموش ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ بی جے پی نے خود اسکام کو بے نقاب کیا اور گودی میڈیا کے ذریعہ عوام تک پیش کیا گیا۔ بتایا جاتاہے کہ بی جے پی نے مدھیہ پردیش اور راجستھان کے چیف منسٹرس کی تبدیلی کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ تبدیلی کے لئے اراضی اسکام اہم وجہ بن سکتا ہے۔ اترپردیش میں یوگی ادتیہ ناتھ کے بڑھتے اثر کو کم کرنے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے ۔ اطلاعات کے مطابق یوگی ادتیہ ناتھ کی نظریں دہلی کی کرسی پر ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اسمبلی انتخابات سے قبل پارٹی ہائی کمان یوگی کے بارے میں کوئی فیصلہ کرے گا۔ دوسری طرف ملک میں الیکشن کمیشن کے ذریعہ منظم انداز میں ووٹ چوری کا سلسلہ جاری ہے۔ فہرست رائے دہندگان میں خصوصی نظرثانی مہم SIR کے تیسرے مرحلہ کا 16 ریاستوں اور تین مرکزی زیر انتظام علاقوں میں آغاز ہوا ہے ۔ تلنگانہ ، آندھراپردیش ، اتراکھنڈ ، ہریانہ ، پنجاب ، کرناٹک ، دہلی ، جھارکھنڈ ، مہاراشٹرا اور اروناچل پردیش میں فہرست رائے دہندگان سے بڑے پیمانہ پر ناموں کو حذف کئے جانے کا امکان ہے۔ تلنگانہ اور پنجاب کے علاوہ کرناٹک بی جے پی کے نشانہ پر ہے۔ بہار ، مغربی بنگال ، ٹاملناڈو اور دیگر ریاستوں میں ووٹ چوری کے ذریعہ جس طرح مخالفین کو نقصان پہنچانے کا تجربہ کامیاب ہوا، ٹھیک اسی طرح تلنگانہ اور کرناٹک میں کانگریس اور پنجاب میں عام آدمی پارٹی کو اقتدار سے بیدخل کرنے کی منصوبہ بندی ہے۔ شمالی ریاستوں میں بی جے پی کے مضبوط موقف کے بعد مودی اور امیت شاہ کی نظریں جنوب میں تلنگانہ اور کرناٹک پر ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ میں جملہ رائے دہندوں 3.35 کروڑ میں تقریباً 50 تا 70 لاکھ نام مختلف وجوہات کے تحت فہرست سے حذف کردیئے جائیں گے۔ الیکشن کمیشن نے بی جے پی کے اشارہ پر اس مہم کو مخالف اپوزیشن مہم میں تبدیل کردیا ہے۔تلنگانہ میں بی جے پی کے 8 ارکان پارلیمنٹ اور 8 ارکان اسمبلی ہیں۔ ریاست میں پارٹی کا موجودہ موقف اقتدار حاصل کرنے کی طاقت نہیں رکھتا ، لہذا کانگریس اور بی آر ایس کے حامیوں کے ناموں کو حذف کرتے ہوئے بی جے پی کے استحکام کی راہ ہموار کی جاسکتا ہے۔بی جے پی کو تلنگانہ اور کرناٹک میں کانگریس کا اقتدار ہرگز قبول نہیں ۔ آئندہ عام انتخابات تک بی جے پی لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ تاکہ من مانی قوانین کو منظوری دی جاسکے۔ منور رانا نے کیا خوب کہا ہے ؎
طوائف کی طرح اپنی غلط کاری کے چہرہ پر
حکومت مندر و مسجد کا پردہ ڈال دیتی ہے