حیدرآباد :۔ بین الاقوامی یوم معذورین کے موقع پر 3 دسمبر کو ’ معذور نوجوان ہنوز آسرا کے لیے انتظار کررہے ہیں ‘ کے عنوان سے ایک اخبار میں شائع ہوئی رپورٹ پر توجہ دیتے ہوئے عہدیدار اس معاملہ کو لے کر فوری طور پر حرکت میں آگئے ۔ اس رپورٹ میں آسرا پنشن سے محروم جسمانی معذور لڑکے امتیاز کی مشکلات کو نمایاں کیا گیا ۔ جس پر ڈسٹرکٹ رورل ڈیولپمنٹ ایجنسی ( ڈی آر ڈی اے ) رنگاریڈی ڈسٹرکٹ کے عہدیداروں کو اس لڑکے کی طبی تشخیص کے لیے گورنمنٹ ہاسپٹل کونڈا پور میں خصوصی انتظامات کرنے پڑے ۔ کہا جاتا ہے کہ سکریٹری ٹو گورنمنٹ ( دیہی ترقی ) سندیپ کمار سلطانیہ سے ہدایت موصول ہونے پر رنگاریڈی ڈسٹرکٹ کلکٹر اے کمار نے اس سلسلہ میں توجہ دیتے ہوئے ماتحت عہدیداروں سے کہا کہ اس مسئلہ کو ترجیحی اساس پر حل کیا جائے اور انہیں رپورٹ دی جائے ۔ بعد میں ڈی آر ڈی اے کے عہدیداروں نے امتیاز کے خاندان سے ربط پیدا کیا اور انہیں دوسرے دن گورنمنٹ ہاسپٹل کونڈا پور کو درکار دستاویزات جیسے آدھار کارڈ اور فوٹوز کے ساتھ رجوع ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے تیقن دیا کہ اس کیس کو ترجیحی اساس پر لیا جائے گا ۔ ’ ہم نے امتیاز کی طبی تشخیص کے لیے خصوصی انتظامات کئے اور اس عمل کو ترجیحی اساس پر مکمل کیا ۔ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے اس لڑکے کا معائنہ کیا اور سرٹیفیکٹس جاری کئے جس سے اس لڑکے کو اس ماہ سے آسرا پنشن حاصل ہونا یقینی ہوگا ۔ سرٹیفیکشن میں کچھ غلطیاں رہ گئی تھیں ۔ اس لیے ہم نے اسے ٹھیک کردیا ہے ۔ سرٹیفیکشن پروسیس کے مکمل ہوتے ہی امتیاز کو پنشن حاصل ہوگا ‘ ۔ یہ بات کے جنگاریڈی ، ایڈیشنل ڈائرکٹر ڈی آر ڈی اے رنگاریڈی نے بتائی ۔ سپرنٹنڈنٹ گورنمنٹ ہاسپٹل کونڈا پور ڈاکٹر دسرت ، ڈاکرانتی ، ڈاکٹر اوماشنکر اور ڈاکٹر کرشنا آر ایم او پر مشتمل ایک میڈیکل ٹیم نے اس لڑکے کا معائنہ اور تشخیص کی اور اسی دن رپورٹ دی ۔ عہدیداروں نے انسانی جذبہ کے ساتھ امتیاز کو چاول کا ایک تھیلہ بھی فراہم کیا ۔۔