اتم کمار ریڈی ’’جھوٹوں کے سردار‘‘، آندھرا کے پراجیکٹ پر تلنگانہ حکومت کی خاموشی
حیدرآباد۔ 6 جون (سیاست نیوز) بی آر ایس کے رکن اسمبلی و سابق وزیر ٹی ہریش راؤ نے ڈی اے کی اجرائی میں سرکاری ملازمین کو پھر ایک بار مایوس کرنے کا کانگریس حکومت پر الزام عائد کیا۔ انہوں نے آج میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمین کے مطالبات پر غور کرنے کیلئے آئی اے ایس عہدیداروں کی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس کمیٹی میں ایمپلائیز کی تنظیموں سے تبادلہ خیال کیا گیا جس میں ایمپلائیز کے نمائندوں نے حکومت کے سامنے 57 ڈیمانڈس پیش کئے جس میں سب سے اہم ڈی اے کی اجرائی اور پی آر سی پر عمل آوری تھا۔ سرکاری ایمپلائیز کے 5 ڈی اے زیرالتواء ہیں۔ ملازمین امید کررہے تھے کہ کم از کم تین ڈی اے جاری کئے جائیں گے، لیکن حکومت نے صرف 2 ڈی اے جاری کرنے کا اعلان کیا ہے، اس میں بھی ایک ڈی اے فوری دیا جائے گا اور ایک ڈی اے آئندہ 6 ماہ بعد دینے کا اعلان کرتے ہوئے ملازمین کی اُمیدوں پر پانی پھیر دیا۔ کانگریس پارٹی نے اپنے انتخابی منشور میں سرکاری ملازمین کے ساتھ جو بھی وعدے کئے گئے تھے، ان میں سے کوئی وعدہ بھی پورا نہیں کیا گیا۔ ہریش راؤ نے ریاستی وزیر آبپاشی اتم کمار ریڈی کو ’’جھوٹا کا سردار‘‘ قرار دیا۔ وہ جب بھی بولتے ہیں، جھوٹ ہی بولتے ہیں۔ انہیں جھوٹوں کے برینڈ ایمبیسڈر قرار دینا چاہئے۔ رائلسیما لفٹ اریگیشن پراجیکٹ پر حکومت کی خاموشی تلنگانہ کیلئے نقصان دہ ثابت ہوگی۔ اپوزیشن کی جانب سے آندھرا پردیش کی پانی چوری کرنے کی تفصیلات منظر عام پر لائی جارہی ہے، مگر حکومت مجرمانہ خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔ چیف منسٹر آندھرا پردیش این چندرا بابو نائیڈو پانی کی چوری پر بی آر ایس کی جانب سے اُٹھائے جانے والے سوالات پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے بی آر ایس کو مخالف آندھرا قرار دینے کی کوشش کررہی ہے جبکہ ہم تلنگانہ کے مفادات کے تحفظ کیلئے کام کررہے ہیں۔ بی آر ایس کے دور حکومت میں زرعی شعبہ کو ترقی دینے اور کسانوں کی فلاح و بہبود کیلئے بڑے پیمانے پر اقدامات کئے گئے تھے، جس کو ریونت ریڈی حکومت نظرانداز کررہی ہے۔ 2