حکومت نے میڈیکل کالجس کی نشستوں کو منسوخ کرنے کا جائزہ لینے اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی

   

داخلہ حاصل کرنے والے چند طلبہ کی وزیر صحت ہریش راؤ سے ملاقات، عدلیہ سے رجوع ہونے پر بھی غور
حیدرآباد۔ یکم جون (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے ریاست کے تین خانگی میڈیکل کالجس کے جملہ 520 نشستوں کو منسوخ کرنے کا جائزہ لینے کے لے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ محکمہ صحت کے سکریٹری رضوی، کالوجی نارائن ہیلت یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر کروناکر ریڈی، طبی تعلیم کے ڈائرکٹر رمیش ریڈی کو شامل کیا گیا۔ داخلوں کا عمل مکمل اور کلاسیس شروع ہونے کے ایک ماہ بعد نیشنل میڈیکل کمیشن کی جانب سے ایم این آر، مہاویر اور ٹی آر آر میڈیکل کالجس کے 450 ایم بی بی ایس اور ایم این آر و مہاویر کالجس کے 70 پی جی نشستوں کو منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اعلیٰ عہدیداروں کی کمیٹی این ایم سی کے عہدیداروں سے تبادلہ خیال کرے گی۔ اس کے علاوہ ان تین خانگی میڈیکل کالجس میں داخلہ حاصل کرنیوالے چند طلبہ وزیر صحت ٹی ہریش راؤ سے ملاقات کرتے ہوئے اپنے مسائل سے واقف کرایا۔ حکومت نے ایک طرف این ایم سی سے مشاورت کرتے ہوئے دوسری طرف مکتوب روانہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ حکومت نشستوں کو منسوخ کرنے کے فیصلے سے دستبردار ہو جانے کی اپیل کررہی ہے اگر یہ ممکن نہ ہونے کی صورت میں طلبہ کا قیمتی تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچانے کے لئے انہیں دوسرے کالجس میں داخلہ فراہم کرنے کا نیشنل میڈیکل کمیشن پر دباؤ بنا رہی ہے۔ داخلوں سے قبل منظوری دے کر داخلوں کا عمل مکمل ہونے کے بعد منظوری سے دستبرداری اختیار کرنے پر طلبہ کا تعلیمی مستقبل داو پر لگ جانے کا استدلال پیش کیا جارہا ہے۔ عہدیداروں کی جانب سے عدلیہ سے رجوع ہونے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ ن