کورونا وائرس کی وجہ سے عوام کی پتنگ بازی میں دلچسپی کم
حیدرآباد : اس سال سنکرانتی کے موقع پر حیدرآباد کے آسمان رنگا رنگ پتنگوں سے سنسان دکھائی دے رہا ہے۔ کوویڈ۔ 19 وباء کے باعث عوام نے احتیاط سے کام لیتے ہوئے پتنگ بازی میں حصہ لینا کم کردیا ہے۔ انٹر نیشنل کائٹ اینڈ سوئیٹ فیسٹول کے 6ویں ایڈیشن کا بھی انعقاد عمل میں نہیں آرہا ہے۔ سینکڑوں حیدرآبادیوںکو اس موقع سے محروم ہونا پڑا ہے۔ تلنگانہ کے محکمہ سیاحت کی جانب سے پتنگ فیسٹیول منعقد کیا جاتا تھا اس سال کورونا کی وجہ سے یہ فیسٹیول نہیں ہوگا۔ ٹی ایس ٹی ڈی سی کے منیجنگ ڈائرکٹر بی منوہر نے کہا کہ عوام کی زندگیاں ہمارے لئے اہم ہیں، جاریہ وبا ء کے پیش نظرہم کو مجبوراً اس فیسٹیول کو منسوخ کرنا پڑا ۔ گذشتہ سال 3 روزہ فیسٹیول بڑے اہتمام کے ساتھ منایا گیا تھا جس میں زائد از 10 لاکھ افراد نے حصہ لیا تھا لیکن اس سال اتنی بڑی تعداد میں عوام کا جمع ہونا جوکھم بھرا ہوسکتا ہے اس لئے ہم نے فیسٹیول کو منسوخ کردیا ہے۔ عہدیداروں کے مطابق اس فیسٹیول میں 15 ملکوں کے علاوہ ہندوستان بھر سے شائقین حیدرآباد آتے تھے۔ 15 ملکوں کے 40 پتنگ باز حصہ لیتے تھے اور ہندوستان سے 60 پتنگ باز بھی فیسٹیول میں شرکت کرتے تھے۔ اس طرح حیدرآباد کا آسمان خوبصورت پتنگوں سے رنگ رنگ ہوجاتا تھا۔ گذشتہ سال کا منظر اس سال نہیں دکھائی دے گا۔ اس سال شہریوں کو سینکڑوں میٹھائیوں اور کھانے پینے کے اسٹالس سے بھی محروم ہونا پڑے گا۔ ان اسٹالس میں دنیا کے لذیذ اور ذائقہ دار کھانے سجائے جاتے تھے۔ فیسٹیول میں حصہ لینے والے ان اسٹالس سے استفادہ کرنے والے کئی چھوٹے بیوپاریوں نے بھی اس فیسٹیول کی منسوخی پر افسوس کا اظہار کیا ہے کیونکہ یہ ان کے لئے کئی ایک مواقع میں سے ایک موقع ہوتا جس میں وہ اپنے فن اور کرافٹ کو ڈسپلے کرکے پیسہ کماتے تھے۔ یہ بڑی بدبختی کی بات ہے کہ محکمہ سیاحت نے کورونا کی وجہ سے فیسٹیول کو منسوخ کردیا۔ کئی تاجروں نے جو پہلے ہی سے کوویڈ۔19 کے باعث کاروبار سے محروم ہیں انہیں ملنے والی آمدنی اور اپنے کاروبار کو بڑھانے کے موقع سے محروم ہوئے ہیں لیکن یہ ان کے لئے کوئی بڑا نقصان نہیں ہے۔ ایک عہدیدار نے کہا کہ اگر ہم نے فیسٹیول منعقد کیا تو اس سے ان کی زندگیاں خطرہ میں پڑ جاتی تھیں ۔ ہم کو توقع ہے کہ ہم یہ انٹرنیشنل سوئیٹ فیسٹیول تلنگانہ کے یوم تاسیس کے موقع پر جون میں منعقد کریں گے۔ جنرل کنوینر کلچر لنگویج انڈین کنکشن لیبی بنجامن نے یہ بات بائی۔