شہری علاقوں سے مایوسی، کم رائے دہی کی وجوہات کا الیکشن کمیشن جائزہ لیگا، سب سے زیادہ نرسا پور اور سب سے کم ملک پیٹ میں ووٹنگ
حیدرآباد۔/15 مئی، ( سیاست نیوز) الیکشن کمیشن کے عہدیداروں نے حیدرآباد اور سکندرآباد لوک سبھا حلقوں میں رائے دہی کے تناسب پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ دونوں لوک سبھا حلقوں میں دیگر حلقہ جات کے مقابلہ رائے دہی کا فیصد کم رہا حالانکہ الیکشن کمیشن کی جانب سے شعور بیداری مہم چلائی گئی تھی۔ شہری علاقوں کے رائے دہندوں کو انتخابی عمل میں شامل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن نے رضاکارانہ تنظیموں کی مدد حاصل کی تھی۔ تلنگانہ کے 17 لوک سبھا حلقوں کے تحت 119 اسمبلی حلقہ جات میں سب سے زیادہ رائے دہی نرسا پور میں 84.25 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ سب سے کم رائے دہی 42.76 فیصد حلقہ اسمبلی ملک پیٹ میں درج کی گئی ہے۔ کم رائے دہی میں دوسرے نمبر پر یاقوت پورہ 43.34 فیصد کے ساتھ رہا جبکہ چارمینار 48.53 فیصد کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔ حیدرآباد ضلع کا کوئی بھی اسمبلی حلقہ ایسا نہیں جہاں رائے دہی 55 فیصد ریکارڈ کی گئی ہو۔ صرف دو اسمبلی حلقہ جات میں 50 فیصد سے زائد رائے دہی ہوئی جن میں عنبرپیٹ اور سکندرآباد کنٹونمنٹ شامل ہیں۔ چیف الیکٹورل آفیسر وکاس راج نے کہا کہ شہری علاقوں بالخصوص حیدرآباد میں رائے دہی میں کمی کی وجوہات کا جائزہ لیا جائے گا۔ عام طور پر شہری علاقوں میں رائے دہی کا فیصد دیہی علاقوں کے مقابلہ زیادہ ہوتا ہے لیکن حیدرآباد اور سکندرآباد لوک سبھا حلقہ جات میں رائے دہندوں نے مایوس کردیا۔ رائے دہندوں کی تعداد کے اعتبار سے سب سے زیادہ 385149 رائے دہندوں نے میڑچل اسمبلی حلقہ میں اپنے ووٹ کا استعمال کیا جبکہ سب سے کم 105383 رائے دہندوں نے بھدرا چلم اسمبلی حلقہ میں اپنے ووٹ کا استعمال کیا۔ حیدرآباد میں 4 جون کو رائے شماری کیلئے 7 مراکز قائم کئے گئے ہیں۔1