مرکزی کابینہ کے اجلاس میں تلنگانہ حکومت کی تجاویز پر غور سے گریز
حیدرآباد۔10 ۔جون(سیاست نیوز) مرکزی حکومت نے حیدرآباد میٹروریل پراجکٹ کے دوسرے مرحلہ کی منظوری کو دوبارہ نظر انداز کردیا ہے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے مرکزی حکومت کو روانہ کئے گئے حیدرآباد میٹرو ریل کے منصوبہ اور تجاویز کے علاوہ تفصیلی پراجکٹ رپورٹ کو مرکزی کابینہ میں منظوری حاصل ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا لیکن آج ہوئے کابینہ کے اجلاس میں مرکز ی حکومت نے احمدآباد میٹرو ریل کے منصوبہ اور تجاویز کو منظوری دے دی ہے لیکن شہر حیدرآباد میں میٹرو ریل کے دوسرے مرحلہ کی منظوری کے سلسلہ میں کسی بھی طرح کے اقدامات سے گریز کیا گیا ہے۔ ریاست تلنگانہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی کو مجموعی طور پر 8 اراکین پارلیمان حاصل ہوئے ہیں اور عوام نے بی جے پی کے 8اراکین پارلیمان کو کامیاب کرتے ہوئے مرکز میں اقتدار فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے لیکن اس کے باوجود مرکزی حکومت حیدرآباد میٹرو ریل کے دوسرے مرحلہ کی منظوری کے سلسلہ میں مکمل طور پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔ گذشتہ دنوں مرکزی وزیر مسٹر جی کشن ریڈی کی جانب سے حیدرآباد میٹرو ریل کے دوسرے مرحلہ کے متعلق دیئے گئے بیانات کے بعد توقع کی جارہی تھی کہ مرکزی کابینہ میں اس منصوبہ و تجاویز کو منظوری دی جائے گی۔ بتایاجاتاہے کہ ریاستی حکومت نے حیدرآباد میٹرو ریل کے خانگی کمپنی ایل اینڈ ٹی سے حاصل کرلئے جانے اور اس کیلئے 15ہزار کروڑ کی ادائیگی و دیگر اقدامات کی تمام تر تفصیلات مرکز کو روانہ کردی ہیں اس کے باوجود حیدرآباد میٹرو ریل کے دوسرے مرحلہ کو منظوری نہیں دی گئی ۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر مسٹر اے ریونت ریڈی نے شہر حیدرآباد میں میٹرو ریل کے دوسرے مرحلہ کے پراجکٹ کو منظوری کیلئے متعدد مرتبہ وزیر شہری ترقیات کے علاوہ دیگر وزراء سے ملاقاتیں کرتے ہوئے شہر کی تیز رفتار ترقی کے سلسلہ میں واقف کروایا ہے ۔ بتایا جاتاہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے میٹرو ریل کے سلسلہ میں روانہ کی گئی دوسرے مرحلہ کی تجاویز پر مرکزی کابینہ میں غور بھی نہیں کیا گیا جبکہ گجرات کے شہر احمد آباد میں میٹرو ریل کے پراجکٹ کو مرکزی حکومت نے منظوری فراہم کردی ہے اور اس پراجکٹ کے سلسلہ میں مرکزی کابینہ میں تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔3/A/b