24,269 کروڑ کا پراجکٹ منظور ، 5نئے کوریڈورس کا خاکہ جاری
حیدرآباد : 26 اکٹوبر ( سیاست نیوز) حیدرآباد کے عوام اور بالخصوص روزانہ سفر کرنے والے لاکھوں شہریوں کیلئے مرکزی حکومت نے بڑا تحفہ دیا ہے ۔ مرکز نے حیدرآباد میٹروریل فیز ۔2 پراجکٹ کو گرین سگنل دے دیا ہے ۔ اس منصوبے کے تحت شہر میں 76 کلو میٹر طویل میٹرو لائنس بچھائی جائیں گی جس کی جملہ تخمینی لاگت 24,269 کروڑ روپئے مقرر کی گئی ہے ۔ حکومت نے فیز ۔2 کے تمام تعمیراتی کامو ںکو 2029ء تک مکمل کرنے کا ہدف طئے کیا ہے ۔ میٹرو حکام کے مطابق پراجکٹ کا کام سب سے پہلے شمس آباد ایئرپورٹ کوریڈور سے شروع کیا جائے گا ۔ فیز ۔2 کے تحت منظور شدہ 50 کوریڈورس کچھ اس طرح ہیں ۔ کوریڈور 1 ۔ ناگول تا شمس آباد ایئرپورٹ (36.8 کلومیٹر ) یہ فیز۔2 کا سب سے طویل اور اہم راستہ ہے جو اُپل ، ایل بی نگر اور چندرائن گٹہ سے ہوتا ہوا براہ راست شمس آباد ایئرپورٹ کو جوڑے گا ۔ اس سے آئی ٹی ملازمین ، ایئرپورٹ جانے والے مسافرین اور عام شہریوں کو زبردست سہولت ملے گی ۔ کوریڈور ۔2 : رائے درگم تا کوکہ پیٹ (11.6کلومیٹر) یہ کوریڈور فینانشیل ڈسٹرکٹ اور کوکہ پیٹ کی بلند و بالا عمارتوں و آئی ٹی راہداریوں کو میٹرو نیٹ ورک سے منسلک کرے گا جس سے روزانہ سفر کرنے والے ہزاروں سافٹ ویر انجنیئرس کو ٹریفک سے نجات ملے گی ۔ کوریڈور۔3 : ایم جی بی ایس تا چندرائن گٹہ (7.5 کلومیٹر پرانا شہر) حیدرآباد کے پرانے شہر کے عوام کا دیرینہ مطالبہ پورا ہونے جارہا ہے ۔ یہ کوریڈور ایم جی بی ایس سے چندرائن گٹہ تک میٹرو ریل کو اولڈ سٹی کے گنجان علاقوں میں وسعت دے گا ۔ کوریڈور۔4 : میاں پور تا پٹن چیرو (13.4 کلومیٹر) یہ کوریڈور حیدرآباد کے مغربی مضافاتی علاقوں اور پٹن چیرو کے صنعتی زون تک تیز رفتار سفری سہولیات فراہم کرے گا جس سے صنعتی مزدوروں اور عام شہریوں کو بڑا فائدہ ہوگا ۔ کوریڈور ۔5 : ایل بی نگر تا حیات نگر (7.1 کلومیٹر ) یہ کوریڈور شہر کے مشرقی مضافاتی علاقوں کو اہم شہر سے جوڑے گا اور وجئے واڑہ ہائی وے پر ٹریفک کے دباؤ کو نمایاں طور پر کم کرے گا ۔2