آئندہ سال منتقلی کا منصوبہ، کونسل جنرل جنیفر لارسن نے پُرشکوہ عمارت کی تصاویر ٹوئٹر پر پیش کی،12ایکرکی تعمیر پر297 ملین ڈالر کا خرچ
حیدرآباد۔/29 نومبر،( سیاست نیوز) حیدرآباد کئی شعبوں میں دنیا بھر میں اپنی منفرد شناخت کو برقرار رکھے ہوئے ہے اور امریکہ جیسی عالمی طاقت نے بھی حیدرآباد کی انفرادیت کا اعتراف کیا ہے۔ حیدرآباد میں امریکی کونسلیٹ کی خوبصورت اور وسیع و عریض عمارت تیار ہوچکی ہے اور فینانشیل ڈسٹرکٹ میں تعمیر کی گئی یہ پُرشکوہ عمارت ایشیا میں امریکہ کا سب سے بڑا کونسلیٹ ثابت ہوگا۔ 12.2 ایکر اراضی پر انتہائی خوبصورت ڈیزائن کے ساتھ کونسلیٹ کی عمارت تعمیر کی گئی ہے جس میں ویزا کے درخواست گذاروں کی سہولتوں کے علاوہ کونسلیٹ کی سیکوریٹی کے تمام پہلوؤں کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ امریکی کونسل جنرل حیدرآباد جنیفر لارسن نے ٹوئٹر پر عمارت کے مختلف حصوں کی تصاویر کو شیئر کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ آئندہ سال کے اوائل میں کونسلیٹ کا آفس نئی عمارت سے کام کرنا شروع کردے گا۔ جنیفر لارسن نے تصاویر کے ساتھ لکھا کہ میں اس بات کی تصدیق کرسکتی ہوں کہ یہ ایک حقیقی معنوں میں خوبصورت عمارت ہے۔ ہم اس عمارت میں منتقلی کیلئے پُرجوش ہیں اور 2023 کے پہلے ششماہی میں ہم وہاں سے کام کا آغاز کردیں گے۔ تلنگانہ حکومت نے امریکی کونسلیٹ کیلئے فینانشیل ڈسٹرکٹ جیسے اہم ترین مقام پر اراضی الاٹ کی ہے۔ عمارت کو امریکی گرین بلڈنگ کونسل نے گولڈ لیول کا اعزاز دیا ہے اور عمارت پر امریکی حکومت نے 297 ملین ڈالر خرچ کئے ہیں۔ واضح رہے کہ حیدرآباد میں 2009 میں پہلی مرتبہ امریکی کونسلیٹ آفس قائم کیا گیا تھا اور 1947 کے بعد ہندوستان میں پہلا امریکی سفارتی دفتر ہے۔ مستقل عمارت کی تعمیر تک حکومت نے بیگم پیٹ کے چیریان فورٹ علاقہ میں واقع پائیگاہ پیالیس کو کونسلیٹ کیلئے عارضی طور پر الاٹ کیا تھا۔ حیدرآباد کونسلیٹ 3 ریاستوں کے عوام اور طلبہ کی ویزا درخواستوں کی یکسوئی کرتا ہے جن میں تلنگانہ، آندھرا پردیش اور اوڈیشہ شامل ہیں۔ پائیگاہ پیالیس ایک تاریخی عمارت ہے جسے سر وقارالعمراء نے تعمیر کیا تھا۔ یہ عمارت 4 ایکر اراضی پر محیط ہے اور دو منزلہ خوبصورت عمارت میں امریکی کونسلیٹ کے مختلف شعبہ جات کام کررہے ہیں۔ پائیگاہ خاندان جو حیدرآباد میں نظام دکن کے بعد محلات تعمیر کرنے والا دوسرا خاندان ہے اور آج بھی اس خاندان کی کئی نشانیاں موجود ہیں۔ امریکی کونسلیٹ کی نئی عمارت میں منتقلی سے ویزا کے حصول میں مزید آسانیوں کا امکان ہے کیونکہ نئے آفس میں ویزا پراسیسنگ کے 54 کاؤنٹرس قائم کئے جائیں گے۔ امریکہ کے ساتھ ہندوستان کے بہتر روابط کے باوجود کونسلیٹ سے ویزا اپوینٹمنٹ کے وقت میںکوئی کمی نہیں ہوئی ہے۔ حیدرآباد میں واقع کونسلیٹ میں ویزا کیلئے اپواینٹمنٹ کیلئے کم از کم 1000 دن انتظار کرنا پڑتا ہے اور پہلی مرتبہ ویزا کیلئے رجوع ہونے والوں کیلئے انتظار کی یہ مدت ہے۔ اگر کسی نے آج سلاٹ بک کیا تو اسے 2025 تک انتظار کرنا پڑسکتا ہے۔ ایسے ویزا جس کے لئے انٹرویو ضروری ہے انہیں 999 دن، اسٹوڈنٹس اور ایکسچینج وزیٹرس کیلئے انٹرویو کو 39 دن، عارضی ورکرس کے انٹرویوز کیلئے 367 دن اور دیگر زمرہ جات کیلئے علحدہ علحدہ ویٹنگ ایام مقرر کئے گئے ہیں۔ ویزا کیلئے ویٹنگ کی مدت کا کونسلیٹ کی ویب سائیٹ پر مشاہدہ کیا جاسکتا ہے۔ر