حیدرآباد میں بی ایل اوز نے ووٹر لسٹوں کی نظر ثانی عمل کو مذاق بناکر رکھ دیا

   

فارمس گھروں تک پہنچانے کے بجائے سیاسی جماعتوں کے قائدین کے پاس پہنچا دئیے
انتخابی عملہ کی ڈیوٹی سے مجرمانہ غفلت اور لاپرواہی ، فارمس کی تقسیم میں کھلم کھلا امتیازی سلوک

حیدرآباد ۔ یکم ۔ جولائی : ( سیاست نیوز ) : سنٹرل الیکشن کمیشن کی جانب سے شروع کئے گئے ووٹر لسٹوں کی نظر ثانی کے اہم ترین مشن کو حیدرآباد کے سست اور لاپرواہ (BLOs) نے مذاق بناکر رکھ دیا ہے ۔ ایک چونکا دینے والی رپورٹ کے مطابق گھر گھر جاکر شفاف طریقے سے Enumeration Forms تقسیم کرنے کے بجائے بیشتر بوتھ لیول آفیسرس نے اپنی سستی اور سیاسی دباؤ کی وجہ سے ووٹر رجسٹریشن فارم براہ راست سیاسی جماعتوں اور مقامی قائدین کے حوالے کردئیے ہیں ۔ اس سنگین لاپرواہی کے نتیجے میں حیدرآباد کے اصل اور اہل ووٹرس اپنے فارمس حاصل کرنے کے لیے الیکشن کمیشن کے عملے کے بجائے سیاسی جماعتوں کے دفاتر اور مقامی قائدین کے گھروں کے چکر کاٹنے پر مجبور ہیں ۔ یہ خطرناک رجحان حیدرآباد کے پرانے شہر کے ساتوں اسمبلی حلقوں کے ساتھ ساتھ دیگر اسمبلی حلقہ جات کوکٹ پلی ، شیر لنگم پلی ، جوبلی ہلز ، مشیر آباد ، سکندرآباد ، کنٹونمنٹ اور قطب اللہ پور جیسے اہم ترین مقامات میں واضح طور پر سامنے آئے ہیں ۔ اسمبلی حلقہ ملک پیٹ ، چھاونی ڈیویژن میں ایک ووٹر نے اپنے انتخابی فارم کے لیے بی ایل او کو فون کیا تو بی ایل او نے ایک خانگی اسکول کے پاس موجود مجلس کے دفتر سے فارم حاصل کرنے کا رائے دہندے کو مشورہ دیا ۔ پرانے شہر کے بیشتر اسمبلی حلقوں میں یہی صورتحال ہے اور انتخابی اعلیٰ عہدیدار محض تماشائی بنے بیٹھیں ہیں ۔ اسمبلی حلقہ جوبلی ہلز کے مختلف ڈیویژنس سری کرشن نگر ، رحمت نگر ، بورا بنڈہ اور ایرہ گڈہ میں BLOs فیلڈ سے غائب ہیں اور مقامی عوامی نمائندوں کے پیروکار اپنی مرضی سے فارمس تقسیم کررہے ہیں جس سے مقامی لوگوں میں شدید تشویش پائی جاتی ہے ۔ سکندرآباد کے سیتا پھل منڈی میں ایک عوامی نمائندے کے فنکشن ہال میں فارمس تقسیم کئے جارہے ہیں جہاں ووٹرس کو بلا کر ان سے دستخط لیتے ہوئے فارمس تقسیم کئے جارہے ہیں ۔ اسمبلی حلقہ کوکٹ پلی کے گوتم نگر اور فتح نگر میں بی ایل اوز ووٹرس کے گھر جانے کے بجائے انہیں کسی دوسرے گھر پر طلب کرتے ہوئے فارمس تقسیم کررہے ہیں ۔ حیدرآباد کے تمام اسمبلی حلقوں میں کچھ بستیاں ، اپارٹمنٹس اور کالونیاں ایسی ہیں جو کسی ایک خاص سیاسی پارٹی کا روایتی گڑھ ہے ۔ ایسے مقامات پر فارمس کی تقسیم میں کھلم کھلا امتیازی سلوک ہورہا ہے ۔ مخصوص پارٹی کے ہمدرد بستیوں میں فارم باٹنے جارہے ہیں جبکہ دیگر علاقوں کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا جارہا ہے ۔ جس سے بستیوں میں افراتفری کا ماحول پیدا ہوگیا ہے ۔ اس معاملے میں جب بی ایل اوز سے فون پر ربط کیا جارہا ہے تو وہ جھوٹا بہانہ بناتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ ہم آپ کے گھروں کو آئے تھے مگر مکانات مقفل پائے گئے ۔ فارمس کی تقسیم کے لیے ایک ہفتہ مقرر کیا گیا ہے ۔ اگر بی ایل اوز روزانہ 100 سے 200 فارمس تقسیم کریں تو کام وقت پر ہوسکتا ہے ۔ قانون بھی یہی کہتا ہے کہ اگر گھر پر کوئی نہ ملے تو وہاں دو یا تین چکر لگائے لیکن حیدرآباد کے بی ایل اوز اس پورے عمل کو ایک بوجھ سمجھ رہے ہیں اور کام سے بچنے کے لیے انہوں نے سیاسی جماعتوں سے گٹھ جوڑ کرلیا ہے ۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو لاکھوں اہل ووٹرس فارم سے محروم رہ جائیں گے اور ان کا نام SIR 2026 کی حتمی فہرست سے خارج ہوجانے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں ۔۔ 2/m/b