حیدرآباد میں کرائم کا گراف ، منشیات کی لت نے بچوں کو بنایا مجرم

   

خواتین کے تحفظ کے سنگین مسائل ، جھوٹی خبریں پھیلانے میں حیدرآباد سرفہرست ، NCRB کی رپورٹ
حیدرآباد ۔ 9 ۔ جون : ( سیاست نیوز ) : نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کی حالیہ رپورٹ نے شہر حیدرآباد میں امن و امان ، خواتین کے تحفظ اور کم عمر بچوں میں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح کے کئی تشویشناک حقائق سامنے لائے ہیں ۔ حیدرآباد میں جرائم میں (Juveniles) کی تعداد میں اضافہ تشویشناک ہے جو ملک کے دیگر بڑے شہروں کا مقابلہ کررہا ہے ۔ شہر میں سال 2023 کے دوران بچوں کے جرائم کے 180 کیسیس رجسٹر ہوئے تھے جو سال 2024 میں بڑھ کر 316 تک پہونچ گئے ۔ ان جرائم کی بنیادی وجہ والدین کی نگرانی کا فقدان ، آن لائن گیمنگ ، جوا اور منشیات کی لت بچپن کو برباد کررہی ہے ۔ ان میں سے زیادہ تر بچوں کی عمریں 12 سے 14 سال کے درمیان ہیں ۔ یہ بچے چھوٹی عمر میں چوری اور منشیات کی اسمگلنگ جیسے چھوٹے جرائم سے شروعات کرتے ہیں اور آگے چل کر قتل اور عصمت ریزی جیسے گھناونے جرائم کا ارتکاب کرنے والے مجرم بن رہے ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق جرائم میں ملوث پائے جانے والے بیشتر بچے اپنے والد سے دور رہ رہے تھے ۔ رپورٹ میں اس کا بھی انکشاف ہوا ہے کہ حیدراباد کے عوامی مقامات سڑکوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے نظام میں خواتین اور بچوں کو سب سے زیادہ ہراساں کیا جاتا ہے ۔ پرہجوم علاقوں میں ان کی تذلیل اور جنسی ہراسانی کے واقعات تشویشناک حد تک بڑھے ہیں ۔ سال 2024 میں جنسی ہراسانی کے مجموعی طور پر 149 کیسیس رجسٹر کئے گئے ۔ جن میں سے 77 کیسیس پبلک ٹرانسپورٹ سسٹم ، عوامی مقامات ، دفاتر اور دیگر مقامات پر پیش آئے ۔ حیدرآباد میں سال 2024 کے دوران عصمت ریزی کے 358 واقعات درج ہوئے ۔ ایک اور چونکا دینے والا انکشاف یہ ہوا کہ افواہیں اور فرضی خبریں پھیلانے کے معاملے میں حیدرآباد سارے ملک میں سرفہرست ہے ۔ شہر میں اس نوعیت کے 68 مقدمات درج کئے گئے ۔ جب کہ چینائی 51 مقدمات کے ساتھ ملک میں دوسرے مقام پر ہے ۔ دھوکہ دہی اور جعلسازی جیسے معاملات میں حیدرآباد ملک میں دوسرے نمبر پر ہے ۔ 2/a/b