حیدرآباد۔ کسانوں کے بھارت بند کی حمایت میں حیدرآبادکے تاریخی چارمینار کے قریب سیاسی جماعتوں کے ساتھ، ایم ایس آئی، جماعت اسلامی،ڈومسٹک ورکرس یونین، ویلفیر پارٹی ‘یوتھ ویلفیر والینٹرس نے مظاہرہ کیا۔ان جماعتوں کے کارکنوں نے ہاتھوں میں پلے کارڈس تھام کر نریندر مودی کومخالف کسان قرار دیا۔ اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے سماجی جہدکار سارامیتھیوز نے کہا کہ مرکزی حکومت مخالف عوام پالیسیوں پر عمل کررہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان زرعی معیشت والا ملک ہے جہاں زیادہ چھوٹے کسان ہیں۔ کارپوریٹ اداروں کی اس شعبہ میں مداخلت نامناسب ہے ۔ان قوانین کے ذریعہ کسانوں کے دستوری حقوق کو سلب کیاجارہا ہے ۔کسان اس کیلئے قانونی راستہ اختیار نہیں کرپائے گا۔عموما اگر کچھ بھی غلط ہوتا ہے تو ہم عدالت میں کیس دائر کرسکتے ہیں آیا وہ مرکزی یا سرکاری عہدیداروں کے خلاف ہویاکوئی اور دوسرا کیوں نہ ہو،تاہم ان ایکٹس کے ذریعہ کسان عدالت سے رجوع نہیں ہوسکتے ۔انہوں نے سوال کیا کہ کیا یہ بنیادی حق کی خلاف ورزی نہیں ہے ؟ان کے ذریعہ قانونی اور دستوری حقوق کو چھینا جارہاہے اور اب کس طرح غریب کسان زندگی گذارے گا۔کنٹراکٹ فارمنگ مناسب نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ اگرکوئی مخصوص کمپنی آلو کے چپس تیار کرتی ہے وہ کسانوں کے ساتھ معاہدہ کرتی ہے کہ کئی آلو پیداکئے جائیں اس کی قیمت ادا کی جائے گی لیکن اب یہ کمپنی اس کو مسترد کرتے ہوئے یہ کہہ سکتی ہے کہ آلو کاسائز مناسب نہیں ہے اور وہ اس سے خریداری نہیں کرے گا۔ایسی صورت میں کسان کیاکرے گا۔