حیدرآباد کے مضافات میں تینوں مذاہب کیلئے اپنی نوعیت کا مشترکہ قبرستان

   

6 ایکر اراضی پر 21 کروڑ روپئے کے مصارف، اروند کمار نے تعمیری کاموں کی پیشرفت کا کیا معائنہ

حیدرآباد ۔ 7 مئی (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کے مضافات میں 6 ایکر اراضی پر 21 کروڑ روپئے کے مصارف سے ایک ہی مقام پر ہندو۔ مسلم، عیسائی مذاہب کیلئے ایک ہی مشترکہ قبرستان تعمیر کیا جارہا ہے۔ اسپیشل چیف سکریٹری بلدی نظم و نسق اروند کمار نے آج ناگول ڈیویژن فتح الاگوڑہ میں قبرستان (مہا پرستھان) کے تعمیری کاموں کے پیشرفت کا معائنہ کیا۔ اروند کمار نے بتایا کہ یہ ملک میں اپنی نوعیت کی پہلی ’’آخری منزل‘‘ ہے جہاں تینوں مذاہب کے ماننے والوں کیلئے ان کے اپنے مذہبی اعتبار سے قبرستان تعمیر کئے جارہے ہیں۔ اس کی تعمیرات میں اعلیٰ سطح کے معیار کو اہمیت دی جارہی ہے۔ جلد سے جلد اس کی تعمیرات مکمل ہوجائیں گی۔ اسپیشل چیف سکریٹری نے کہا کہ مہاپرستھان میں ایک وسیع ہال کے علاوہ پانی نہانے کے رومس، بیت الخلاؤں کے علاوہ دیگر بنیادی سہولتیں فراہم کئے جائیں گے۔ پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کیلئے بہہ کر جانے والے پانی کو پودوں کیلئے استعمال کیا جائے گا۔ اس آخری منزل کیلئے برقی کی سربراہی کیلئے قریب میں موجود انیمل کیر سنٹر پر بہت بڑا سولار سسٹم کا قیام عمل میں لایا جائے گا اس سے حاصل ہونے والی برقی تینوں مذاہب کے لوگ استعمال کرسکیں گے۔ن