حیدرآ باد شہر میں سیاسی جماعتیں سرگرم، قبل ازوقت انتخابات کی پیش قیاسی

   

قائدین عوام کے درمیان ، ٹکٹ کے دعویداروں میں اضافہ ، ترقیاتی کاموں کا سنگ بنیاد و افتتاح ، پیدل دورے و جلسے

حیدرآباد۔30جنوری(سیاست نیوز) شہر حیدرآباد کی 15اسمبلی نشستوں کے لئے تمام سیاسی جماعتوں اور پارٹی کے ٹکٹ کے دعویداروں کی جانب سے عوام کے درمیان پہنچنے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے اور وہ اپنے اپنے حلقہ جات اسمبلی میں عوام کے درمیان پہنچنے لگے ہیں ۔بھارت راشٹر سمیتی ‘ مجلس اتحاد المسلمین ‘ بھارتیہ جنتا پارٹی ‘ کانگریس کے علاوہ تلگودیشم نے بھی اپنی سیاسی سرگرمیوں کا عملی طور پر آغاز کردیا ہے۔ریاست میں قبل از وقت انتخابات کی پیش قیاسی کے دوران سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں میں ہونے والے اضافہ کے ساتھ ہی شہر حیدرآباد کی 15 نشستوں پر دعویدار وں کی تعداد میں بھی اضافہ ہونے لگا ہے۔ مجلس اتحاد المسلمین جو حیدرآباد سے اپنے 7ارکان اسمبلی کو منتخب کروانے میں کامیاب ہوئی ہے وہ بھی ترقیاتی کاموں کے افتتاح ‘ سنگ بنیاد‘ جلسۂ حالات حاضرہ کے علاوہ عوام سے ملاقات کے پروگرامس کے ذریعہ انتخابی ماحول کی تیاری میں سرگرم نظر آنے لگی ہے ساتھ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی نے بھی شہر حیدرآباد میں حلقہ جات اسمبلی گوشہ محل‘ خیریت آباد‘ مشیر آباد‘ عنبرپیٹ‘ صنعت نگر‘ جوبلی ہلز‘ کاروان اور نامپلی میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے ۔صدر مجلس اتحاد المسلمین بیرسٹر اسدالدین اویسی نے حلقہ اسمبلی چارمینار اور بہادر پورہ میں ترقیاتی کاموں کا افتتاح اور جلسہ عام سے خطاب کے ذریعہ پرانے شہر میں انتخابی ماحول کو گرما دیا ہے اسی طرح مرکزی وزیر سیاحت جی کشن ریڈی نے حلقہ اسمبلی عنبرپیٹ میں اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے جبکہ فی الحال عنبر پیٹ سے بی آر ایس رکن اسمبلی ہیں لیکن اس کے باوجود اس حلقہ میں جی کشن ریڈی کو کافی مقبولیت حاصل ہے۔ حلقہ اسمبلی خیریت آباد میں سابق رکن اسمبلی رامچندرریڈی نے عوام سے ملاقات کا سلسلہ شروع کردیا ہے جبکہ دوسری جانب کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے والی کارپوریٹر مسز وجیہ ریڈی خیریت آباد سے کانگریس کے ٹکٹ کے حصول کے لئے کوشاں ہیں وہیں کانگریس خیریت آباد ڈی سی سی ‘ روہن ریڈی بھی اسی حلقہ سے مقابلہ کے خواہاں ہیں۔ بھارتیہ جنتاپارٹی حلقہ اسمبلی صنعت نگر سے ایم ششی دھر ریڈی کو امیدوار بنانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے جبکہ اس حلقہ اسمبلی نمائندگی ریاستی وزیر ٹی سرینواس یادو کرتے ہیں اور وہ گذشتہ چند یوم سے عوام کے درمیان رہتے ہوئے ان کے مسائل کے حل پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ حلقہ اسمبلی جوبلی ہلز سے کانگریس کا ٹکٹ حاصل کرنے کے لئے رینوکاچودھری کوشاں ہے جبکہ اس نشست پر سابق میں پی جناردھن ریڈی کے فرزند وشنوردھن ریڈی نے کامیابی حاصل کی تھی ۔ حلقہ جات اسمبلی چندرائن گٹہ ‘ چارمینار‘ یاقوت پورہ ‘ کاروان‘ بہادرپورہ ‘ نامپلی اور ملک پیٹ سے مجلس کی کامیابی کو یقینی تصور کیا جاتا رہاہے لیکن آئندہ انتخابات کے دوران تمام سیاسی جماعتوں کی جانب سے محنت کئے جانے کے امکان ہے اور ایسے میں مخالف مجلس سیاسی جماعتوں کے امیدواروں کے درمیان ووٹوں کی تقسیم کے نتیجہ میں ہی مجلسی امیدواروں کی بہ آسانی کامیابی ممکن ہوگی ۔ بی جے پی مجلس کے 7 حلقہ جات اسمبلی میں کاروان‘ یاقوت پورہ ‘ ملک پیٹ کے علاوہ نامپلی پر خصوصی توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے جبکہ کانگریس بھی نامپلی ‘ کاروان اور ملک پیٹ پر محنت کا آغاز کرچکی ہے۔ بی آر ایس کی جانب سے مجلس کے 7 حلقہ جات اسمبلی پر دوستانہ مقابلہ کے علاوہ مابقی نشستوں پر سخت مقابلہ کی تیاریاں کی جا رہی ہیں اور کہا جار ہاہے کہ حلقہ اسمبلی راجندر نگر‘ جوبلی ہلز‘ صنعت نگر‘ عنبر پیٹ ‘ خیریت آباد کے علاوہ دیگر علاقوں میں مسلم ووٹوں کی تقسیم کو یقینی بناتے ہوئے بی آر ایس کامیابی حاصل کرنے کی منصوبہ بندی پر کام کر رہی ہے۔ شہر حیدرآباد میں تلگو دیشم پارٹی کے نظریاتی رائے دہندوں کو نظر میں رکھتے ہوئے تلگودیشم پارٹی کاروان‘ ملک پیٹ ‘ جوبلی ہلز ‘ خیریت آباد‘ صنعت نگر‘ مشیر آباد کے علاوہ گوشہ محل سے اپنے امیدوار میدان میں اتارنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور اگر تلگو دیشم پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے درمیان ماقبل انتخابات انتخابی مفاہمت ہوتی ہے تو ایسی صورت میں حالات تبدیل ہوسکتے ہیں اور بعض نشستوں سے تلگودیشم پارٹی دستبردار ہوسکتی ہے۔سیاسی جماعتوں کی جانب سے موجودہ ارکان اسمبلی کو تبدیل کئے جانے کے امکانات ظاہر کئے جانے کے بعد مختلف حلقہ جات اسمبلی کی نمائندگی کرنے والے ارکان اسمبلی اپنے سیاسی مستقبل کے متعلق متفکر نظر آرہے ہیں اور وہ اپنی نشست کی تبدیلی کے متعلق فکر مند ہیں اور کسی بھی حلقہ اسمبلی میں عوام کے درمیان پہنچتے ہوئے عوام سے ملاقات کو یقینی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بی آر ایس اور مجلس نے کانگریس کے علاوہ بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکمت عملی کا مشاہدہ کرنے اور ان کے سیاسی حلیفوں کے اقدامات کا جائزہ لینے کے بعد ہی اس سلسلہ میں قطعی فیصلہ کرنے کی حکمت عملی اختیار کی ہوئی ہے ۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے انتخابات میں بی جے پی نے 46 بلدی حلقوں پر کامیابی حاصل کرنے کے لئے جو حکمت عملی اختیار کی تھی وہ اسی طرز پر انتخابی مہم کے حق میں ہے اور جن حلقہ جات اسمبلی میں بی جے پی کے زیادہ کارپوریٹرس منتخب ہوئے ہیں ان حلقہ جات اسمبلی پر توجہ مرکوز کی جا رہی ہے۔م