حیدرآباد کے ذخائر آب کے تحفظ کیلئے جی او 111 کی پابندیاں برقرار

   

نئی شرائط کی تیاری تک موجودہ جی او پر عمل آوری، عثمان ساگر اور حمایت ساگر کے اطراف گرین زونس کیلئے حکومت کی تجویز
( تلنگانہ ہائی کورٹ میں حکومت کا حلفنامہ )

حیدرآباد۔/14 ستمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے ہائی کورٹ میں وضاحت کی ہے کہ جی او 111 کے تحت پابندیاں برقرار ہیں اور عہدیداروں کی کمیٹی کی جانب سے دونوں شہروں کے ذخائر آب کے تحفظ کیلئے متبادل قواعد طئے کرنے تک جی او 111 پر عمل آوری جاری رہے گی۔ اسپیشل چیف سکریٹری بلدی نظم و نسق اروند کمار نے دونوں شہروں کے ذخائر آب و تالابوں کے تحفظ کے سلسلہ میں دائر کردہ مفاد عامہ کی درخواست کی سماعت کے دوران حلفنامہ داخل کیا جس میں بتایا گیا کہ حمایت ساگر اور عثمان ساگر کو آلودگی سے بچانے کیلئے حکومت کی جانب سے جاری کردہ جی او 111 ابھی برقرار ہے۔ حکومت نے متبادل قواعد کے سلسلہ میں عہدیداروں کی کمیٹی تشکیل دی ہے اور کمیٹی کی رپورٹ تک جی او 111 برقرار رہے گا۔ ماحولیات کے جہد کار ایس جیوانند ریڈی نے 2007 میں مفاد عامہ کی درخواست دائر کی تھی۔ انہوں نے ایک عبوری درخواست دائر کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے جی او 111 کی جگہ جی او ایم ایس 69 مورخہ 12 اپریل 2022کی اجرائی کو چیلنج کیا جس میں دونوں ذخائر آب کے آبگیر علاقے میں ترقیاتی کاموں پر عائد پابندیوں کو ختم کردیا گیا ہے۔ جی او 111 کے تحت ذخائر آب کے آبگیر علاقے میں بڑی تعمیرات، کالونیوں، صنعتوں اور کسی بھی تجارتی ادارے کے قیام پر پابندی تھی تاکہ ذخائر آب کو آلودگی سے بچایا جاسکے۔ زیر زمین پانی کو آلودگی سے بچانے کیلئے 10 کیلو میٹر کے حدود میں اس طرح کی سرگرمیوں پر روک لگائی گئی تھی اور84 مواضعات اس میں شامل تھے۔ اروند کمار نے اپنے حلفنامہ میں کہا کہ ذخائرآب کے اطراف ترقیاتی سرگرمیوں پر پابندی کی سابقہ صورتحال اب تبدیل ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب ہمیں حیدرآباد کی پانی کی ضرورت کی تکمیل کیلئے مذکورہ ذخائر آب پر انحصار کی ضرورت نہیں ہے تاہم حکومت دونوں ذخائر آب کے پانی کو آلودگی سے محفوظ رکھنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ حکومت ذخائر آب کے آبگیر علاقے میں پابندیوں کو ختم کرتے ہوئے گرین زونس کے قیام کا منصوبہ رکھتی ہے جس کے تحت صنعتی سرگرمیوں پر پابندی میں رعایت حاصل ہوگی۔ر