287 مارکس حاصل کرنے والے مسلم طالب علم کو اقلیتی کالج میں داخلہ ، 1068 زائد نشستیں تلنگانہ طلبہ کو دستیاب
حیدرآباد ۔ 28 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : کالوجی نارائن ہیلت یونیورسٹی کے ذرائع نے بتایا کہ خانگی میڈیکل کالجس کے بی زمرے ایم بی بی ایس کی نشستوں میں 85 فیصد کوٹہ تلنگانہ طلبہ کو مختص کرنے سے نیٹ میں حاصل کردہ کٹ آف مارکس گھٹ گئے ہیں ۔ کٹ آف مارکس گھٹنے سے گذشتہ سال کے بہ نسبت اس مرتبہ ایک ہزار زائد ایم بی بی ایس کی نشستیں مقامی طلبہ کو حاصل ہورہی ہیں ۔ گذشتہ سال ایک خانگی میڈیکل کالج میں بی زمرے کی آخری نشست 399 مارکس حاصل کرنے والے امیدوار کو حاصل ہوئی تھی ۔ ابھی مزید دو مرحلے باقی ہیں پہلے مرحلے کی بی زمرے کی نشستوں میں خانگی کالج میں 309 مارکس حاصل کرنے والے طالب علم کو نشست حاصل ہونے کی یونیورسٹی ذرائع سے اطلاع ملی ہے ۔ گذشتہ سال کی آخری کونسلنگ کا تقابل کرنے پر اس مرتبہ پہلے مرحلے کے داخلوں میں کٹ آف مارکس گھٹ جانے کا ثبوت مل رہا ہے ۔ اس مرتبہ 290 مارکس حاصل کرنے والے طلبہ کو بھی بی زمرے میں ایم بی بی ایس کی نشستیں دستیاب ہونے کے قوی امکانات ہیں ۔ 287 مارکس حاصل کرنے والے ایک مسلم طالب علم کو اقلیتی کالج میں بی زمرے میں ایم بی بی ایس کی نشست حاصل ہوئی ہے ۔ مسلم تحفظات سے مسلم طلبہ کو انصاف ہورہا ہے ۔ گذشتہ سال دوسری ریاستوں سے بی زمرے کے لیے 6500 طلبہ نے درخواستیں داخل کی تھی تاہم اس مرتبہ صرف 2 ہزار سے زائد رخواستیں وصول ہونے کا اندازہ لگایا جارہا ہے ۔ واضح رہے کہ محکمہ صحت نے حال ہی میں داخلہ قوانین میں ترمیم کی ہے تاکہ پرائیوٹ کالجس میں ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس میں بی زمرہ کی 85 فیصد نشستیں تلنگانہ کے طلبہ کو دستیاب ہوں ۔ جس کے بعد ریاست کے 24 پرائیوٹ میڈیکل کالجس میں ایم بی بی ایس کی 1068 نشستیں تلنگانہ کے طلبہ کے لیے دستیاب ہوئی ہیں ۔ ریاست کے 20 غیر اقلیتی کالجس میں 3200 نشستیں ہیں جس میں بی زمرے کے تحت 1120 نشستیں مختص ہیں ۔ تازہ ترین ترمیم کے ساتھ مقامی طلبہ کو 85 فیصد مقامی طلبہ کو نشستیں دستیاب ہورہی ہیں ۔ اب تک مقامی کوٹہ نہیں تھا اس لیے دوسری ریاستوں کے طلبہ یہاں کے کالجس میں داخلہ حاصل کررہے تھے ۔ جس سے تلنگانہ کے مقامی طلبہ کو نا انصافی ہورہی تھی ۔ مہاراشٹرا ، گجرات ، کیرالا ، اڈیشہ ، مدھیہ پردیش ، جموں و کشمیر اور پنجاب کے علاوہ دوسری ریاستوں میں اوپن کوٹہ پالیسی نہیں ہے ۔ جس کا جائزہ لینے کے بعد تلنگانہ کے محکمہ صحت نے قوانین میں ترمیم کیا ہے تاکہ مقامی طلبہ کو زیادہ سے زیادہ داخلوں کا مستحق بنایا جاسکے ۔ مقامی کوٹہ کے آغاز کے ساتھ ہی صورتحال بدل گئی ہے ۔۔ ن