خشک سالی کی صورتحال، ہر قطرۂ آب کی حفاظت کیلئے نگرانی ضروری

   

غفلت ناقابل برداشت، نظام آباد میں مختلف محکمہ جات کے ساتھ جائزہ اجلاس، سدرشن ریڈی کا خطاب
نظام آباد 10 ستمبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) ریاست میں ایل نینو کے اثرات کے باعث بارش کی کمی اور خشک سالی جیسی صورتحال کے پیش نظر دستیاب آبی وسائل کے ایک ایک قطرے کو محفوظ رکھنے کے لیے مسلسل نگرانی اور موثر اقدامات کیے جائیں۔ یہ ہدایت ریاستی حکومت کے مشیر پی سدرشن ریڈی نے آج انٹیگریٹڈ ڈسٹرکٹ آفسز کمپلیکس میں ضلع کلکٹر بھویش مشرا کے ہمراہ مختلف محکمہ جات کے عہدیداروں کے ساتھ منعقدہ جائزہ اجلاس میں دی۔ انہوں نے محکمہ آبپاشی کے عہدیداروں سے ضلع کے مختلف آبی ذخائر میں موجود پانی کے ذخائر کی تفصیلات حاصل کیں اور کہا کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں سری رام ساگر سمیت دیگر بڑے پراجیکٹس میں پانی کی سطح انتہائی کم ہے، جس کے پیش نظر پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پینے کے پانی کی ضروریات کے لیے مناسب مقدار میں پانی محفوظ رکھتے ہوئے فصلوں کو بچانے کے لیے زیادہ سے زیادہ دو مرتبہ آبپاشی کے لیے پانی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے نظام ساگر اور سری رام ساگر پراجیکٹس سے پانی آخری سرحدی ایریا تک پہنچنے کو یقینی بنانے کے لیے سخت نگرانی کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ ایک ماہ تک عہدیدار فیلڈ سطح پر مسلسل دورے کریں اور نہروں و آبی نظام کے ذریعہ پانی کے ضیاع کو روکنے کے اقدامات کی نگرانی کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ غفلت برتنے والے عہدیداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ پی سدرشن ریڈی نے کہا کہ کسانوں کے مفادات سے متعلق معاملات میں کسی بھی قسم کی غفلت یا سمجھوتہ برداشت نہیں کیا جائے گا اور اگر پانی کے ضیاع کے نتیجہ میں فصلیں خشک ہوئیں تو متعلقہ عہدیداروں کو ذمہ دار قرار دیا جائے گا۔ انہوں نے پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے جہاں ضرورت ہو نہروں، توموں اور دیگر آبپاشی ڈھانچوں کی مرمت کے کام جنگی بنیادوں پر مکمل کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ان کاموں کے لیے درکار فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔انہوں نے محکمہ زراعت کے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ فیلڈ سطح پر دستیاب رہتے ہوئے کسانوں کو ضروری مشورے اور رہنمائی فراہم کریں۔ خریف فصلوں کی خریداری کے دوران کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے، اس کے لیے گوداموں میں موجود چاول کے ذخیرے کو مقررہ مقامات تک تیزی سے منتقل کرنے کی ہدایت بھی دی۔ سرکاری تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم طلبہ و طالبات کو یونیفارم کی بروقت فراہمی پر بھی زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ طلبہ کے جسمانی ناپ کے مطابق معیاری یونیفارم تیار کرکے فراہم کرنے کی ذمہ داری خود مددگار گروپس کو دی گئی ہے، لہٰذا انہیں مقررہ وقت پر یونیفارم تیار کرکے فراہم کرنے کو یقینی بنایا جائے۔ جائزہ اجلاس میں ریاستی اردو اکیڈمی کے چیئرمین طاہر بن حمدان، ضلع ریونیو آفیسر گیتا، زیڈ پی سی ای او سائی گوڑ، ڈی آر ڈی او سائیانا، کے علاوہ دیگر مختلف محکمہ جات کے عہدیدار بھی موجود تھے۔