خلیجی ممالک ایران کی جانب سے حملوں پر شدید ناراض

   

موجودہ جنگ سے ہمارا کوئی تعلق نہیں، کویت ، قطر بحرین اور امارات کے تاثرات

دوحہ، 15 جولائی (یو این آئی) خلیجی ممالک ایران کی جانب سے حملوں پر شدید ناراض ہیں، ان کا مؤقف ہے کہ موجودہ جنگ سے ان کا کوئی تعلق نہیں ہے ۔کویت، قطر، بحرین اور متحدہ عرب امارات نے ایرانی حملوں کی مذمت کی ہے ، جب کہ قطر اور عمان امریکہ کے ساتھ اُس کا تنازع ختم کرانے کے لیے سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں۔ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں متحدہ عرب امارات کے 2 سپر ٹینکرز کو نشانہ بنایا گیا، حملوں میں عملے کے 2 ارکان متاثر ہوئے ، اور کئی ملاح تاحال لاپتہ ہیں۔الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے خلیجی خطے کے لیے ایک نئی سیکیورٹی آزمائش پیدا کر دی ہے ، ایران کی جانب سے خطے میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعوؤں کے بعد بحرین، کویت، عمان، قطر، متحدہ عرب امارات اور اردن میں فضائی دفاعی نظام دوبارہ فعال کر دیے گئے ہیں، جب کہ امریکا نے بھی ایران کے جنوبی ساحلی علاقوں اور آبنائے ہرمز کے قریب اپنی فوجی کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔حالیہ کشیدگی کا مرکز آبنائے ہرمز ہے ، جو دنیا کی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم بحری راستہ ہے ۔ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کی ہے ، جب کہ ایران نے امریکی مفادات اور خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے ۔دونوں ممالک کے درمیان یہ محاذ آرائی خلیجی ریاستوں کو ایک مشکل صورت حال میں لے آئی ہے ، کیوں کہ وہ ایک طرف امریکہکے اہم اتحادی ہیں اور دوسری طرف ایران کے جغرافیائی ہمسائے ہیں۔امریکا کی مشرقِ وسطیٰ میں وسیع فوجی موجودگی خلیجی ممالک کے لیے ایک دوہری حقیقت بن گئی ہے ، خطے میں تقریباً 50 ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں اور بحرین، قطر، کویت، اردن، عراق، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت متعدد ممالک میں امریکی فوجی تنصیبات موجود ہیں۔ماہرین کے مطابق امریکی فوجی اڈے خلیجی ممالک کو ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف تحفظ فراہم کرتے ہیں، لیکن اسی موجودگی کی وجہ سے وہ ایرانی حملوں کا ممکنہ ہدف بھی بنے ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک ایک ایسے توازن میں پھنسے ہوئے ہیں جہاں امریکا کے ساتھ تعلقات ان کی سلامتی کا اہم ستون ہیں، مگر ان ہی تعلقات نے انھیں علاقائی کشیدگی میں شامل بھی کر کے رکھا ہوا ہے ۔
خلیجی ممالک نے گزشتہ کئی دہائیوں میں جدید فضائی دفاعی نظاموں پر اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔ سعودی عرب کے پاس امریکی ساختہ تھاڈ اور پیٹریاٹ PAC-3 نظام موجود ہیں، جب کہ متحدہ عرب امارات بھی تھاڈ، پیٹریاٹ اور دیگر جدید دفاعی نظام استعمال کرتا ہے ۔ قطر، کویت، بحرین اور عمان نے بھی مختلف نوعیت کے دفاعی نظام حاصل کیے ہیں، جن میں پیٹریاٹ، NASAMS اور دیگر میزائل شکن ٹیکنالوجی شامل ہیں۔یہ نظام ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ کوئی بھی فضائی دفاعی نظام مکمل طور پر ناقابلِ تسخیر نہیں ہوتا، خصوصاً جب حملہ مسلسل اور طویل مدت تک جاری رہے ۔